Wednesday, February 18, 2026
ہومپاکستاناگر ٹی ایل پی بحال ہو سکتی ہے تو ہمارا کیا قصور ہے، خالد مقبول صدیقی

اگر ٹی ایل پی بحال ہو سکتی ہے تو ہمارا کیا قصور ہے، خالد مقبول صدیقی

اسلام آباد،قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ایم کیوایم نے دفاتر کھولنے اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں عسکری قیادت کی جانب سے افغانستان کی صورت حال اور اس سے جڑے دیگر معاملات اور پاکستان کے کردار پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے اور اس سلسلے میں ٹی ایل پی رہنمائوں کے خلاف مقدمات ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کو ایم کیو ایم کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایم کیو ایم کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اگر پولیس والوں کو قتل کرنے کا جرم معاف ہو سکتا ہے تو ہم نے تو صرف تالیاں بجائی تھیں۔ بتایا جائے کہ قتل کرنا بڑا جرم ہے یا تالی بجانا؟ درخواست ہے کہ ہمارا تالی بجانے کا جرم معاف کر دیا جائے،دفترکھولنے کا مطالبہ کرتے رہے مگر اجازت نہیں دی گئی۔ خالد مقبول صدیقی سے سوال کیا گیا کہ آج وزیراعظم کیوں نہیں آئے ، جس پر خالد مقبول صدیقی نے جواب دیا کہ یہ تو وزیر اعظم سے ہی پوچھنا پڑے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔