اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پانی کے تحفظ کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے پاکستان واٹر ویک 2026 کے دوران کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے لئے قانون سازی، موثر نگرانی اور بجٹ میں مناسب فنڈز مختص کرنے کے ذریعے پارلیمانی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔پیر کو پاکستان واٹر ویک 2026 کی چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ پانی سے متعلق پالیسیوں کے ثمرات کسانوں اور سیلاب و پانی کی قلت سے متاثرہ آبادیوں تک پہنچائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پانی کی قلت، تباہ کن سیلابوں اور خشک سالی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لئے جامع قومی حکمت عملی اور وفاقی و صوبائی سطح پر مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے آبی وسائل کے تحفظ کے لئے قابل عمل قانون سازی، مثر نگرانی اور مستقل مالی وسائل کی فراہمی کو بنیادی ضروریات قرار دیتے ہوئے صوبائی آبی قوانین پر مکمل عملدرآمد اور زیر زمین پانی کے بہتر انتظام پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اس امر کی نگرانی کرنی چاہئے کہ آبپاشی کا پانی کسانوں تک پہنچ رہا ہے یا نہیں اور سیلاب کی پیشگی اطلاعات بروقت متاثرہ دیہات تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے بجٹ میں نقصانات کے ازالے کے ساتھ بچا اور پیشگی اقدامات کو بھی ترجیح دی جانی چاہئے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ شمسی توانائی سے چلنے والے پانی کے پمپوں نے کسانوں کو سہولت فراہم کی ہے تاہم زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال کو روکنے کے لئے مثر قوانین اور ضابطہ کاری بھی ضروری ہے۔ انہوں نے آبی ذخائر کے محتاط استعمال، زیر زمین پانی کے ذخائر کی بحالی اور سیلابی پانی کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ قابل اعتماد اعداد و شمار کا تبادلہ صوبوں کے درمیان اعتماد کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جبکہ خواتین، نوجوانوں اور کسان برادری کو آبی وسائل کے انتظام میں فعال شراکت دار بنانا ہوگا۔
چیئرمین سینیٹ نے 2010 کے سیلاب کے دوران بطور وزیراعظم اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بیک وقت شدید سیلاب اور پانی کی قلت جیسے دو متضاد چیلنجز کا سامنا ہے، 2022 کے سیلاب سے تقریبا تین کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے جبکہ 30 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا، گزشتہ سال بھی تقریبا 70 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی پانچ ہزار مکعب میٹر سے کم ہو کر تقریبا ایک ہزار مکعب میٹر رہ گئی ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ مثر اور قانونی طور پر پابند ہے اور پانی کو کبھی دبا کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے 2047 تک پاکستان کو آبی تحفظ اور سیلاب سے محفوظ ملک بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر عالمی ادارہ برائے آبی انتظام کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ آبی تحفظ کا غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور معاشی استحکام سے گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کانفرنس کے ہر اجلاس میں واضح اہداف، ذمہ داریوں کے تعین اور عملی اقدامات کے لئے ٹائم لائن مرتب کی جانی چاہئے۔اپنے کلیدی خطاب میں عالمی ادارہ برائے آبی انتظام کے پانی، خوراک اور ماحولیاتی نظام سے متعلق تزویراتی پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محسن حفیظ نے کہا کہ پاکستان کے پاس آبی مسائل سے نمٹنے کے لئے ٹھوس شواہد اور قابل عمل تجاویز موجود ہیں تاہم ان پر مثر عملدرآمد کے لئے مشترکہ عزم اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے فیصلوں کے نتیجے میں کسانوں کی زندگیوں میں عملی اور مثبت تبدیلی آنی چاہئے۔پاکستان واٹر ویک 2026 کا انعقاد عالمی ادارہ برائے آبی انتظام اور سی جی آئی اے آر پالیسی انوویشن سائنس پروگرام نے پاکستان کونسل برائے تحقیقِ آبی وسائل اور وزارت آبی وسائل کے اشتراک سے کیا ہے۔5 روزہ کانفرنس 2 سے 6 نومبر تک اسلام آباد میں جاری رہے گی جس میں 200 سے زائد شرکا شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں پانی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، غذائی نظام کو مستحکم بنانے اور سندھ طاس میں آبی وسائل کے انتظام سے متعلق امور پر غور کیا جا رہا ہے۔ کانفرنس کی اختتامی تقریب 5 نومبر کو منعقد ہوگی جبکہ سرگرمیاں 6 نومبر تک جاری رہیں گی۔
چیئرمین سینیٹ کا پاکستان واٹر ویک 2026 کے وعدوں پر عملدرآمد کیلئے پارلیمانی حمایت کا اعلان، پانی کا تحفظ قومی ترجیح قرار
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
