ہومتازہ ترینافغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی تعلقات میں رکاوٹ ہے، وزارت اطلاعات

افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی تعلقات میں رکاوٹ ہے، وزارت اطلاعات

اسلام آباد (سب نیوز)ترجمان افغان طالبان کے حالیہ بیان پر وزارت اطلاعات و نشریات نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی تعلقات میں رکاوٹ ہے،افغان طالبان بگڑتے تعلقات کی وجوہات تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں، کابل کو دہشتگردی روکنے کی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی،ہمارا موقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے کہ دہشت گردی ہماری ریڈ لائن ہے، افغان طالبان اس اہم مسئلے کو نظر انداز کر رہے ہیں جو تعلقات میں تلخی کا بنیادی سبب ہے، تلخی کا بنیادی سبب افغان سرزمین سے دہشتگردی روکنے میں طالبان حکومت کی مسلسل ناکامی ہے، دو طرفہ تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی ہے، پاکستان اپنی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کیلئے تمام ضروری اقدامات کا حق رکھتا ہے، افغان طالبان کی الزام تراشی اور کھوکھلی یقین دہانیاں پاک افغان بحران کا حل نہیں۔

اتوار کو وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان ترجمان کی حالیہ ٹوئٹ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی اصل وجوہات سے چشم پوشی کے مترادف ہے، افغان طالبان قیادت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں خرابی کی بنیادی وجہ کو نظر انداز کر رہی ہے۔وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی ایک ریڈ لائن ہے اور شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی رکاوٹ ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کی ذمہ دار ہے۔وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مثر اقدامات سے مسلسل گریز پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔اِسی طرح دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر الزام تراشی اور کھوکھلی یقین دہانیاں بحران کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتیں۔

افغان طالبان قیادت کو دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے اور یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق کیے جائیں گے، پاکستان کی سلامتی کو افغان طالبان حکومت کی بے عملی، ٹال مٹول یا غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستانی شہریوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے اور قومی سلامتی کے معاملے پر پاکستان کے عزم کو کسی قسم کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔دوسری جانب بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ افغان طالبان قیادت کو چاہیے کہ وہ محض بیانات اور یقین دہانیوں کے بجائے اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اور موثر اقدامات کرے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔