اسلام آباد (آئی پی ایس ) وفاقی حکومت تعمیراتی شعبے میں اصلاحات، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار بہتر بنانے کے لیے 2 ریگولیٹری ادارے قائم کرنے اور بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے کم از کم 3 سالہ ڈیفیکٹ لائیبلٹی پیریڈ متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔تاہم منصوبوں کی مالیت کی وہ حد مقرر کرنے پر حکومت اور تعمیراتی صنعت کے درمیان اختلاف ہے جس پر تنازعات سے بچا اور حل کا مجوزہ نظام لاگو ہوگا۔
تعمیراتی شعبے میں اصلاحات سے متعلق ابتدائی مشاورتی اجلاس وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی صدارت میں ہوا، جس میں مجوزہ ادارہ جاتی ڈھانچے، منصوبوں کی تکمیل میں بہتری اور صنعت کو درپیش اہم مسائل پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکریٹری ہاسنگ ریٹائرڈ کیپٹن محمد محمود اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مجوزہ کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ اتھارٹی بلپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ احد چیمہ نے زور دیا کہ بل کو حتمی شکل دینے سے پہلے اس کے تمام پہلوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
شرکا نے اس امکان پر غور کیا کہ تعمیراتی شعبے کے لیے ایک ہی ادارہ قائم کیا جائے یا 2 الگ ادارے بنائے جائیں، جن میں سے ایک شعبے کی نگرانی اور ضابطہ کاری جبکہ دوسرا تعمیراتی صنعت کے فروغ اور متعلقہ امور کا ذمہ دار ہو۔
