صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے آئل ٹینکر Honour 25 کے عملے کی بازیابی کے لیے کارروائی کے دوران قزاقوں کی فائرنگ سے 3 پاکستانیوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔
انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق صومالیہ اور نیم خودمختار خطے پٹ لینڈ کی حکومت کی مشترکہ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز اور بحری قزاقوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ قزاقوں نے فرار ہوتے ہوئے یرغمال بنائے گئے افراد پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد جان سے گئے جبکہ چار زخمی ہوئے۔
انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت سیکنڈ انجینئر سید کاشف عمر، آئلر رفیع اللہ خان اور تھرڈ انجینئر محمود انصاری کے طور پر کی گئی ہے۔ دیگر دو جاں بحق افراد میں ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری شامل بتایا گیا ہے۔
واقعے میں جاں بحق پاکستانیوں میں کراچی کے علاقے بفرزون سے تعلق رکھنے والے کاشف عمر بھی شامل تھے۔ ان کے بیٹے اذہان کاشف نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے والد کی میت پاکستان لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
اذہان کا کہنا ہے کہ ان کے والد کے جہاز کو ہائی جیک ہوئے تقریباً پانچ ماہ گزر چکے ہیں اور خاندان مسلسل ان کی واپسی کا منتظر تھا۔ انہوں نے کارروائی کے دوران زخمی ہونے والے افراد کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور باقی پاکستانی عملے کی حفاظت یقینی بنانے کی بھی اپیل کی۔
