ہومپاکستانچیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی آزادی کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی ناگزیر قرار دیدیا

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی آزادی کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی ناگزیر قرار دیدیا

اسلام آباد (سب نیوز)چیف جسٹس سپریم کورٹ یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا اصلاحاتی ایجنڈا پانچ بنیادی ستونوں پر استوار ہے، جن میں ٹیکنالوجی، انصاف تک رسائی، شفافیت، قانونی و ریگولیٹری فریم ورک اور ادارہ جاتی احتساب شامل ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئے عدالتی سال 2026-27 کا آغاز ہوگیا، اس سلسلے میں افتتاحی تقریب سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ایک میں منعقد ہوئی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی آفریدی نے نئے عدالتی سال کی افتتاحی تقریب کی صدارت کی، جس میں سپریم کورٹ کے تمام معزز ججز، اٹارنی جنرل پاکستان، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے شرکت کی۔
تقریب کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے ادارہ جاتی اصلاحاتی ایجنڈے پر ہونے والی پیش رفت سے شرکا کو آگاہ کیا اور بہتر انصاف کی فراہمی اور موثر سروس ڈیلیوری کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا حتمی مقصد عوام کو بہتر، بروقت اور مثر انصاف کی فراہمی ہے جبکہ عدالتی آزادی کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی ناگزیر ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق نئے مقدمات کی ڈیجیٹائزیشن اور بارکوڈنگ کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، ڈیجیٹل نظام انصاف کے لیے مضبوط ڈیٹا انفراسٹرکچر اور سائبر سیکیورٹی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور ضلعی عدلیہ کے لیے یکساں ای فائلنگ فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے، جس سے وکلا اور سائلین کو مقدمات کی فائلنگ کا آسان طریقہ کار میسر آئے گا۔صوبائی بار کونسلز کو قومی ای فائلنگ فریم ورک کی تیاری میں شامل کیا گیا ہے جبکہ ای فائلنگ کی تجویز قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے سامنے بھی پیش کردی گئی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت سے منسلک ثالثی فریقین کو منصفانہ، بروقت اور مثر حل فراہم کرسکتی ہے، مقدمات کی بروقت سماعت مثر کیس مینجمنٹ کے لیے ضروری ہے اور عدالتی نظام میں جدید انتظامی و ڈیجیٹل طریقہ کار کو فروغ دینا اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں عوامی سہولت مرکز اور ڈیجیٹل رابطہ کاری نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے، لاہور رجسٹری میں عوامی سہولت مرکز نومبر کے وسط تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ چین اور ترکیہ کی عدالتوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عمل درآمد جاری ہے، سپریم کورٹ کے 4 تکنیکی افسران کو ترکیہ جبکہ 5 افسران کو چین بھیجا گیا ہے تاکہ عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی اور بہترین عالمی طریقہ کار سے استفادہ کیا جاسکے۔
چیف جسٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے 2015 سے 2026 تک سزائے موت کی 613 اپیلیں نمٹائیں، اس عرصے میں قبل از گرفتاری ضمانت کی 2 ہزار 972 درخواستوں جبکہ بعد از گرفتاری ضمانت کی 2 ہزار 926 درخواستوں کے فیصلے کیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ سروس معاملات میں 4 ہزار 302 مقدمات کے فیصلے کیے گئے جبکہ کرایہ داری سے متعلق زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہوکر 133 رہ گئی ہے۔چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کا عمل جاری رہے گا اور مقدمات کی بروقت سماعت، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، شفافیت اور عوام کی عدالتوں تک آسان رسائی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔