ہومتازہ ترینتوکایف نے نئے قرلتائی کے پہلے اجلاس کا افتتاح کردیا، قازقستان کی سیاسی ترقی کے نئے مرحلے پر زور

توکایف نے نئے قرلتائی کے پہلے اجلاس کا افتتاح کردیا، قازقستان کی سیاسی ترقی کے نئے مرحلے پر زور

آستانہ(سب نیوز)قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے ملک کی نئی قائم کردہ پارلیمان قرلتائی کے پہلے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے اسے نئے آئین کے تحت قازقستان کی سیاسی ترقی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا ہے۔جمعہ کو افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر توکایف نے کہا کہ نئی یک ایوانی قرلتائی کو قانون سازی، ریاستی اداروں میں تقرریوں اور حکومت کی نگرانی کے حوالے سے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے، جو ملک کے سیاسی نظام میں اہم تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔نئے آئینی نظام کے تحت صدر توکایف نے آیبیک دادے بائے کو قرلتائی کا چیئرمین نامزد کرتے ہوئے ارکان سے ان کی حمایت کی اپیل کی۔صدر نے بتایا کہ نئی منتخب پارلیمان کے قیام سے قبل حکومت نے اپنا مینڈیٹ واپس کردیا ہے۔ قرلتائی کی تشکیل کے بعد وہ نائب صدر اور وزیر اعظم کے عہدوں کے لیے امیدوار نامزد کریں گے، ارکان پارلیمان سے مشاورت کے بعد حکومت کے ارکان کا تقرر کیا جائے گا۔توکایف نے کہا کہ قرلتائی اور حکومت کی مکمل تشکیل کے بعد وہ عوام سے اپنا سالانہ خطاب کریں گے، جبکہ انتظامیہ اور پارلیمان کو حکومتی و قانون سازی اقدامات پر مشترکہ طور پر مثر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ قازقستان عوامی کونسل (ہالک کینیشی)ستمبر کے دوسرے نصف میں قائم کی جائے گی۔ صدر کے مطابق یہ ملک کا پہلا اعلی ترین مشاورتی ادارہ ہوگا جو قازقستان کے نسلی، علاقائی، سماجی اور سیاسی تنوع کی نمائندگی کرے گا اور اسے قانون سازی کا آئینی حق بھی حاصل ہوگا۔پارلیمان کے اختیارات میں اضافہصدر توکایف نے کہا کہ نئی قرلتائی کو حکومت کی نگرانی اور اہم ریاستی تقرریوں کے حوالے سے زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔آئینی عدالت کے ججوں، مرکزی انتخابی کمیشن اور سپریم آڈٹ چیمبر کے ارکان کی تقرری کے لیے قرلتائی کی منظوری ضروری ہوگی۔ صدر کی سفارش پر ارکان پارلیمان سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری اور برطرفی بھی کرسکیں گے۔قرلتائی قومی بجٹ پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لے گی اور آئینی عدالت کا سالانہ خطاب بھی سنے گی۔ اسے حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے اور انفرادی وزرا کی برطرفی کی سفارش کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔صدر نے قرلتائی کے پہلے دور کے ارکان پر زور دیا کہ وہ موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر انہیں نئے آئین کے مطابق ڈھالیں۔مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلیتوکایف نے قانون سازی کے عمل کو جدید بنانے کے لیے ای پارلیمنٹ انفارمیشن سسٹم تیزی سے متعارف کرانے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام سے قانون سازی کے تجزیے، قانونی خطرات کی بروقت نشاندہی اور پارلیمانی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے قانون سازی میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی قوانین کے معیار کو بہتر بنانے اور بدعنوانی کے خطرات کم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے، تاہم یہ ماہرین قانون کی پیشہ ورانہ مہارت کا متبادل نہیں بن سکتی۔حکومت کو ثانوی تعلیم میں اے آئی کے استعمال، ڈیجیٹل اثاثوں کی صنعت کی ترقی اور ڈیجیٹل قازقستان حکمت عملی پر عمل درآمد سے متعلق قانون سازی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔معیشت، سرمایہ کاری اور توانائیصدر توکایف نے کہا کہ قازقستان کی معاشی اصلاحات کا بنیادی مقصد صنعتی ترقی، نئی پیداواری سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے شہری خدمات، ٹرانسپورٹ، توانائی، پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

قومی فنڈ کے وسائل کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ یہ رقم ایسے منصوبوں پر خرچ کی جانی چاہیے جو آنے والی نسلوں کے لیے طویل المدتی معاشی اور سماجی فوائد پیدا کرسکیں۔انہوں نے اعلی تربیت یافتہ ماہرین، جدید ٹیکنالوجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے گولڈن ویزا پروگرام متعارف کرانے کی حمایت کی اور ملک کی امیگریشن پالیسی میں وسیع تر اصلاحات پر زور دیا۔توانائی کے تحفظ اور تکنیکی خود انحصاری کو بھی اہم ترجیحات قرار دیتے ہوئے انہوں نے توانائی کے شعبے کو جدید بنانے اور متبادل توانائی کے ذرائع کی ترقی کے لیے قانون سازی پر زور دیا۔خارجہ پالیسی اور قومی خودمختاریعالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے توکایف نے کہا کہ دنیا میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے، بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد میں کمی آرہی ہے اور بین الاقوامی نظام کی مثریت کو نئے چیلنجز درپیش ہیں۔انہوں نے قازقستان کو ایک درمیانی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی نظام میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے باعث علاقائی تنظیموں اور درمیانی طاقتوں کا کردار مزید اہم ہوگیا ہے۔صدر نے کہا کہ قازقستان کی خودمختاری کو معیشت، سائنس، دفاع اور سفارت کاری میں قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر، جبکہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کے ذریعے مستحکم کیا جائے گا۔انہوں نے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ساتھ امن، دوستی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔بچوں اور سماجی تحفظ پر خصوصی توجہصدر توکایف نے بچوں کے تحفظ اور خصوصی افراد کی معاونت کو بھی اپنی تقریر کا اہم حصہ بنایا۔انہوں نے معذوری کے شکار بچوں کے لیے جامع اور ہدفی معاونت فراہم کرنے، تعلیم تک بہتر رسائی اور معیاری طبی و سماجی خدمات کی فراہمی کے لیے قانون سازی پر زور دیا۔

انہوں نے ہر علاقائی دارالحکومت اور بڑے ضلعی مرکز میں خصوصی معاونتی مراکز قائم کرنے کی تجویز دی اور اسپانسرز سے حکومتی کوششوں میں تعاون کی اپیل کی۔صدر نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکانٹس بنانے پر پابندی عائد کرنے کی حکومتی تجویز کی بھی حمایت کی اور قرلتائی پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھے۔حکومت کو رواں سال کتب خانوں اور اشاعت کے شعبے سے متعلق نیا قانون تیار کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔سیاسی شرکت اور قیادت کی تجدیدتوکایف نے بتایا کہ قرلتائی کے انتخابات میں 74 فیصد سے زائد شہریوں نے حصہ لیا جبکہ تقریبا 800 بین الاقوامی مبصرین نے انتخابات کا مشاہدہ کیا۔انہوں نے انتخابات کو کھلے، منصفانہ اور منظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت پارٹی نے سب سے زیادہ عوامی حمایت حاصل کی اور قرلتائی میں آئینی اکثریت حاصل کی، جس سے پارٹی پر قومی اتحاد اور اصلاحاتی عمل میں کردار ادا کرنے کی اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔صدر نے نئی پارلیمان میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ریاستی اداروں کے تمام شعبوں میں قیادت کی تجدید اصلاحات کا اہم مقصد ہے۔انہوں نے ارکان پارلیمان پر زور دیا کہ وہ پاپولزم اور کھوکھلے وعدوں سے گریز کرتے ہوئے قانون کی بالادستی، شفافیت، باہمی احترام اور سیاسی تکثیریت کو فروغ دیں۔صدر توکایف نے اپنے خطاب کے اختتام پر علم، سائنس، محنت اور خود نظم و ضبط پر مبنی مستقبل کی جانب دیکھنے والی قومی شناخت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قازقستان کا اتحاد منصفانہ، محفوظ، صاف ستھرا اور مضبوط قازقستان کی تعمیر کی بنیاد رہے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔