واشنگٹن :امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن کھلا رکھنے کا عندیہ دے دیا امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ حملے ختم نہیں کیے گئے اور ضرورت پڑنے پر مسلح کارروائی دوبارہ کی جاسکتی ہے۔
وسکونسن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگسیتھ نے آبنائے ہرمز پر مکمل امریکی کنٹرول اور تیل کی ترسیل بحال ہونے کا دعویٰ کیا۔
امریکی وزیرِ جنگ نے کہا کہ ایران پر معاشی دباؤ بھی مؤثر ثابت ہورہا ہے اور اس وقت سخت معاشی پابندیاں تہران کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے پاس مذاکرات کی میز پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ نے واضح کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف حملے بند نہیں کیے تاہم ضرورت کے مطابق آئندہ مسلح کارروائی کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ دنوں میں متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ کو آگاہ کیا ہے کہ فی الحال ایران کے خلاف مزید امریکی حملوں کا امکان نہیں۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے ایران کے خلاف اپنی حکمتِ عملی میں فوجی حملوں کے بجائے معاشی پابندیوں اور دیگر ذرائع سے دباؤ بڑھانے پر توجہ مرکوز کرلی ہے۔
مارکو روبیو کے مطابق امریکا اس وقت ایران پر دباؤ ڈالنے کے دیگر طریقوں پر توجہ دے رہا ہے جن میں رواں ہفتے اعلان کی گئی نئی پابندیوں کی مہم بھی شامل ہے۔
ضرورت پڑی تو ایران پر پھر حملہ کر سکتے ہیں، امریکی وزیر جنگ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
