کیف: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ملک کے 35ویں یومِ آزادی کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین جنگ کے باوجود اپنی آزادی، خودمختاری اور ریاستی تشخص کا دفاع جاری رکھے گا اور روس کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کی آزادی کا یہ دن جنگ کے باعث بدل چکا ہے، تاہم قوم کا اتحاد، باہمی اعتماد اور آزادی پر یقین وہ طاقت ہے جو ملک کو مضبوطی سے قائم رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دشمن یوکرینی قوم کے اتحاد کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوتا، یوکرین نہ تو گرے گا اور نہ ہی اپنی آزادی سے دستبردار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس کے وسائل، اسلحے اور فوجی صلاحیتوں کا اندازہ تو لگایا، لیکن سب سے اہم عنصر یعنی یوکرینی عوام کی قوت ارادی کو نظر انداز کردیا۔
زیلنسکی نے یوکرینی فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے دارالحکومت کیف، خارکیف اور خیرسون کے علاقوں کا دفاع کیا اور ڈونباس سے دستبردار نہیں ہوئی۔ انہوں نے یوکرینی فوج کو ’’یورپ کی بہترین فوج‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی صرف نظریات اور عسکری اصولوں کے تحت نہیں بلکہ اپنے دل اور حوصلے کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں۔
یوکرینی صدر نے جنگ کے دوران عوام کی جانب سے ایک دوسرے کی مدد، زخمی فوجیوں کو بچانے، جنگی قیدیوں کی واپسی پر خوشی منانے اور مشکل حالات میں بھی انسانی ہمدردی برقرار رکھنے کی مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ یوکرینی قوم کو بے حس نہیں بنا سکی۔
انہوں نے یوکرین کی دفاعی صنعت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاعی صنعت چوبیس گھنٹے آزادی کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے زمینی روبوٹک نظام، بحری ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیتوں کو یوکرین کی دفاعی قوت کا اہم حصہ قرار دیا۔
زیلنسکی نے کہا کہ روس کو یوکرین کے مزید حملوں اور ’’انصاف‘‘ کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے بیلسٹک میزائلوں اور جدید ڈرونز کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین پہلے بھی ایسے مسائل حل کرچکا ہے جنہیں ابتدا میں ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ روس امن نہیں چاہتا بلکہ مزید متحرک فوجی بھرتی چاہتا ہے، تاہم یوکرین کو اپنی فوج مضبوط بنانا ہوگی اور فوجیوں کو ہر ضروری سہولت اور سازوسامان فراہم کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین، یورپ، امریکا اور دنیا کو مل کر روس پر دباؤ بڑھانا ہوگا تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لایا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کے خلاف ایسی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں جو ماسکو کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کریں۔
زیلنسکی نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کو جنگ روکنے کے لیے درکار تمام وسائل فراہم کرے، جبکہ یورپ کو متحد، پرعزم اور بہادر رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چین پر بھی زور دیا کہ وہ روسی دھمکیوں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے اور عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
یوکرینی صدر نے کہا کہ 24 فروری 2022 کو روسی حملے کے بعد تاریخ نے یوکرین کی آزادی کا امتحان لیا، لیکن لاکھوں یوکرینیوں نے اپنی مزاحمت اور قربانیوں کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ ایک متحد قوم اور آزاد ریاست ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے اور امن کا خواہاں ہے، تاہم وہ صرف ہتھیار ڈال کر امن حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کے عوام تھکے ہوئے ضرور ہیں لیکن اپنی آزادی کے دفاع سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر صدر زیلنسکی نے یوکرینی عوام پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں، آزادی کے لیے جانیں قربان کرنے والے ہیروز کی یاد کو زندہ رکھیں اور اپنی آزاد ریاست کا تحفظ کریں۔
انہوں نے ’’یومِ آزادی مبارک، یوکرین‘‘ کے الفاظ کے ساتھ خطاب ختم کرتے ہوئے ’’یوکرین زندہ باد‘‘ کا نعرہ بھی لگایا۔
