اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کی ذمہ داری حکومت کی تھی، ہے اور رہے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی کی صحت کے لیے ہم دعا گو بھی ہیں، پی ٹی آئی کی اپیل کے بغیر ہی بانی پی ٹی آئی کو بہترین صحت کی سہولت دی گئیں، مجھے خوشی ہوئی کہ پی ٹی آئی کے ارکان عدلیہ کی تعریف کرتے رہے، لیکن یہ عجیب رویہ ہے جب جج آپ کے حق میں فیصلہ دیں تو عدلیہ اچھی ہو جاتی ہے، جب فیصلہ آپ کے خلاف آئے تو عدلیہ پر الزامات ہوتے ہیں، پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے اور میرٹ پر فیصلے کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کی ذمہ داری حکومت کی تھی ہے اور رہے گی، سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا پی ٹی آئی کو یقین ہو گیا ہے کہ عدالتیں انصاف کر رہی ہیں، سب کو ماضی میں رہائی عدالتوں سے ملی، عدالتیں ہی واحد چینل ہیں جس سے رہائی کا کوئی راستہ بنتا ہے، وزیر اعظم کے پاس ایگزیکٹو اختیار نہیں کہ عدالتوں کے فیصلوں کے برعکس بات کرے۔
ایک سوال کے جواب میں طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا اپوزیشن لیڈرز کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں لیکن انہیں بانی کا اعتماد حاصل ہے، ہم نے واضح کہا کہ اپوزیشن قیادت کو پی ٹی آئی کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم بات کریں اور پی ٹی آئی رہنما بیان بازی کررہے ہوں، یہ خوش آئند ہے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا ایک دو دن میں وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب دیں گے، خط کے جواب کے بعد مشترکہ ملاقات کے لیے جگہ کا تعین کیا جائے گا۔
