تحریر: محمد محسن اقبال
2005ء کے موسمِ خزاں میں کشمیر کے قدیم پہاڑوں نے زمین کے غضب کا ایسا منظر دیکھا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ آٹھ اکتوبر کی صبح، ریکٹر اسکیل پر 7.6 شدت کا ہولناک زلزلہ آیا جس کا مرکز مظفرآباد سے محض انیس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔ اس قیامت خیز لرزش کی بازگشت صرف پاکستان تک محدود نہ رہی بلکہ افغانستان، تاجکستان، بھارت کی وادیوں اور چین کے دور افتادہ خط? سنکیانگ تک محسوس کی گئی۔ یہ اس دہائی کی مہلک ترین قدرتی آفات میں شمار ہوا جس نے ہزاروں قیمتی جانیں نگل لیں اور بے شمار بستیاں ملبے کا ڈھیر بنا دیں۔ مگر قیامت یہیں ختم نہ ہوئی۔ آنے والے کئی ماہ تک زمین مسلسل کانپتی رہی، یہاں تک کہ اکتوبر سے اگلے سال مارچ تک مجموعی طور پر 497 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے۔ اس آزمائش نے انسان کو ایک نہایت گہرا سبق دیا کہ جو عمارتیں مضبوط بنیادوں، معیاری تعمیر اور دیانت داری سے تعمیر کی گئی تھیں، وہ بار بار کے جھٹکوں کے باوجود قائم رہیں، جبکہ جلد بازی، غفلت یا بے احتیاطی سے کھڑی کی گئی عمارتیں گرد و غبار اور مایوسی کا استعارہ بن گئیں۔
اسی نوعیت کا ایک اور ڈرامائی منظر حالیہ برسوں میں دنیا نے دیکھا، فرق صرف اتنا تھا کہ اس مرتبہ زمین نہیں، بلکہ انسانی تصادم لرز رہا تھا۔ فروری 2026ء کے اواخر میں ایران اور امریکہ کے درمیان عرص? دراز سے سلگتی ہوئی کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی، جس میں اسرائیل بھی پوری قوت کے ساتھ شریک ہو گیا۔ وسیع پیمانے پر فضائی اور میزائل حملوں نے ایران کے سینکڑوں مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں عسکری اڈے، جوہری تنصیبات اور اعلیٰ قیادت کے مراکز شامل تھے۔ ابتدائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف پورے خطے بلکہ عالمی سیاست میں بھی شدید ارتعاش پیدا کر دیا۔ جواباً تہران نے میزائلوں اور ڈرونز کی ایسی یلغار کی جس نے رات کے آسمان کو شعلوں سے بھر دیا اور مختلف ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ مارچ اور اپریل کے دوران جنگ کی شدت مسلسل بڑھتی رہی، ہزاروں افراد لقم? اجل بنے جن میں اکثریت ایران اور لبنان کی تھی، جبکہ حزب اللہ اور دیگر قوتوں کی ممکنہ شمولیت نے اس تصادم کو مزید وسیع ہونے کے خدشات سے دوچار کر دیا۔ عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز بھی شدید خطرات کی زد میں آ گئی اور پوری دنیا تشویش سے تیل کی رسد پر منڈلاتے بحران کو دیکھنے لگی۔
جون کے وسط میں امید کی ایک کرن اس وقت نمودار ہوئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی۔ اس معاہدے میں بڑے پیمانے کی جنگی کارروائیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو پرامن بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر سنجیدہ مذاکرات کے آغاز کا وعدہ کیا گیا۔ چند ہفتوں کے لیے یوں محسوس ہوا کہ شاید عقل و تدبر ایک بار پھر طاقت پر غالب آ جائے گا، مگر سات اور آٹھ جولائی کو جنگ بندی کی یہ نازک ڈور ٹوٹ گئی۔ ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکہ نے تازہ فضائی حملے کیے اور بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی۔ ایران نے بھی بحرین، کویت، اردن اور دیگر مقامات پر امریکی اور اتحادی افواج کے ٹھکانوں پر جوابی حملے کیے۔ جولائی اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر امریکی فضائی کارروائیوں اور ایرانی جوابی حملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور خلیج مسلسل بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہے۔
اگرچہ اس جنگ کا اصل میدان پاکستان کی سرحدوں سے بہت دور ہے، مگر اس کے آفٹر شاکس نہایت سرعت سے پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور معیشت تک پہنچ چکے ہیں۔ جنگ کے ابتدائی مرحلے ہی میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں نے شدید چھلانگ لگائی۔ تین اپریل کو پاکستان میں پٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح، یعنی چار سو اٹھاون روپے اکتالیس پیسے فی لیٹر تک جا پہنچی، جو رسد میں تعطل اور بے قابو قیاس آرائیوں کا نتیجہ تھی۔ ڈیزل اس سے بھی آگے بڑھ کر پانچ سو بیس روپے پینتیس پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ اس اضافے کے اثرات قومی زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوئے۔ ٹرانسپورٹ کرایے بڑھ گئے، کسانوں کے لیے زرعی مشینری اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا، جبکہ عام گھرانوں کو مہنگائی کے طوفان کے سامنے اپنے اخراجات محدود کرنا پڑے۔قبل ازیں سفارتی کوششوں، جن میں پاکستان کی خاموش مگر مؤثر ثالثی بھی شامل تھی، کے نتیجے میں حالات میں وقتی بہتری آئی، آبنائے ہرمز دوبارہ فعال ہوئی اور قیمتوں میں نسبتاً استحکام پیدا ہوا۔ لیکن جولائی میں جنگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے نے اس عارضی سکون کو بھی ختم کر دیا۔ تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بے قابو ہو گئیں، جبکہ غیر یقینی صورتحال اور نئی قیاس آرائیوں نے منڈی کو مزید بے چین کر دیا۔ بین الاقوامی قرضوں پر انحصار اور کمزور معیشت کے باعث حکومت کے لیے بھی حالات نہایت دشوار ہو گئے اور اسے مستقبل کے خدشات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر مقامی ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کرنا پڑا۔
یوں پاکستان نے بھی ایک بڑے ابتدائی جھٹکے کے بعد مسلسل آفٹر شاکس کا سامنا کیا، بالکل اسی طرح جیسے دو دہائیاں قبل کشمیر کے زلزلے میں ہوا تھا۔ خلیج میں پیدا ہونے والی ہر نئی کشیدگی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور عام آدمی کی قوتِ خرید کو ایک نئے ارتعاش سے دوچار کر دیتی ہے۔ ایندھن پر انحصار کرنے والی صنعتوں نے اپنی پیداوار محدود کر دی ہے، روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، اور اس بوجھ کا سب سے زیادہ شکار وہ طبقہ ہے جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا تھا۔ بیرونی طوفانوں کے درمیان قرض کی بنیادوں پر کھڑی پاکستانی معیشت ان جھٹکوں کو غیر معمولی شدت سے محسوس کرتی ہے۔
ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستانی عوام کا تحمل آج بھی سلامت ہے۔ اس ضمن میں روزنامہ پاکستان کے ان دنوں کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آتا ہے جب یہ اخبار اکبر بھٹی کی ملکیت تھا۔ ایک روز ایک رپورٹر گھبرایا ہوا رپورٹنگ روم میں داخل ہوا اور اعلان کیا کہ بھٹی صاحب کی گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔ ابھی سب لوگ تشویش میں مبتلا ہی ہوئے تھے کہ ایک سینئر صحافی مسکراتے ہوئے بولے، ”اس کا مطلب ہے اس مہینے تنخواہیں وقت پر نہیں ملیں گی۔” بظاہر یہ ایک ہلکا پھلکا جملہ تھا، مگر اس میں زندگی کی اس تلخ حقیقت کی بھرپور عکاسی موجود تھی کہ جب کشتی کا ملاح ہی مشکل میں پڑ جائے تو اس کے اثرات سب مسافروں تک ضرور پہنچتے ہیں۔
پاکستان اس سے پہلے بھی سیاسی ہنگاموں، معاشی بحرانوں اور قدرتی آفات کے بے شمار ادوار سے گزر چکا ہے۔ ہر بار اس قوم نے اپنی بکھری ہوئی قوت کو سمیٹا، زخموں پر مرہم رکھا، ٹوٹے ہوئے حوصلوں کو جوڑا اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا۔ خلیجی تنازع کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں روز افزوں اضافہ اور معاشی اعتماد میں مسلسل کمی بھی اسی نوعیت کا ایک نیا امتحان ہے۔ ماضی میں ہماری مضبوط ریاستی اداروں اور عوام کے ثابت قدم حوصلوں نے قوم کو سہارا دیا، اور آج بھی یہی ہماری سب سے بڑی امید ہیں۔ ان شاء اللہ، یہ آزمائش بھی گزر جائے گی۔ پاکستان ان آفٹر شاکس سے مزید مضبوط، زیادہ متحد اور پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہو کر ابھرے گا، کیونکہ قوموں کی اصل طاقت ان کی عمارتوں میں نہیں بلکہ ان کے لوگوں کے عزم، صبر اور استقلال میں ہوتی ہے۔
