اسلام آباد/بیجنگ (آئی پی ایس) : پاکستان مصنوعی ذہانت کی عالمی تنظیم ’وائیکو‘ کا بانی رُکن بن گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر خارجہ نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاکستان نے ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے قائم ہونے والی بین الاقوامی تنظیم ’وائیکو‘ کی بانی رکنیت حاصل کر لی ہے۔
شنگھائی میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر کے 29 ممالک نے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کے معاہدے پر باقاعدہ دستخط کیے۔ پاکستاننیوز
یہ نئی بین الحکومتی تنظیم عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں باہمی تعاون، مربوط گورننس اور ٹیکنالوجی کی منصفانہ ترقی کے لیے کام کرے گی۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت کے فوائد کو محفوظ اور منصفانہ طریقے سے پوری دنیا تک پہنچانا ہے۔
رکن ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے اے آئی کے اخلاقی استعمال اور تکنیکی معیارات کو عالمی سطح پر مستحکم بنایا جائے گا تاکہ جدید دور کے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق شنگھائی میں منعقد ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس 2026 (WAIC) کی افتتاحی تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستانی وفد کے ساتھ شرکت کی۔
افتتاحی تقریب سے چین کے صدر شی جن پنگ نے خطاب کیا۔ یہ تقریب گزشتہ شب بانی اراکین کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کے بعد منعقد ہوئی، جس میں پاکستان بھی بطور بانی رکن شامل ہے۔
پاکستان نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی جامع اور منصفانہ گورننس کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز تک وسیع رسائی، ترقی پذیر ممالک کی استعداد کار میں اضافہ اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے اور مصنوعی ذہانت کے فوائد دنیا بھر کے تمام ممالک اور عوام تک مساوی انداز میں پہنچ سکیں۔
