اسلام آباد:( سب نیوز)پاکستان میں بوسنیا و ہرزیگووینا کے سفیر نے کہا ہے کہ سربرینیتسا نسل کشی انسانیت کی تاریخ کا ایک ایسا المناک باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، اور اس سانحے کی یاد صرف ماضی کو یاد کرنے کے لیے نہیں بلکہ دنیا میں امن، انصاف اور نسل کشی کی روک تھام کے عزم کی تجدید کے لیے بھی ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بات پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) اسلام آباد میں سربرینیتسا نسل کشی کی 31ویں برسی کی یاد میں منعقدہ تقریب اور “موت کے میدانوں کے پیچھے زندگیاں” کے عنوان سے سربرینیتسا میموریل سینٹر کی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ تقریب 11 جولائی کو منائے جانے والے 1995 کی سربرینیتسا نسل کشی کے بین الاقوامی یومِ یاد و عکاسی کے سلسلے میں منعقد کی گئی۔
سفیر نے کہا کہ اس سال سربرینیتسا نسل کشی کو 31 برس مکمل ہو رہے ہیں، جس کے دوران آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو منظم انداز میں قتل کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے اسے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سرزمین پر ہونے والا بدترین انسانی المیہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کل پوٹوچاری میموریل سینٹر میں دس مزید بے گناہ بوسنیائی مسلمانوں کی باقیات سپردِ خاک کی جائیں گی۔ ان میں مکمل ڈھانچے موجود نہیں بلکہ اجتماعی قبروں، جنگلات اور میدانوں سے برسوں بعد ملنے والی ہڈیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے شامل ہیں۔
سفیر نے کہا کہ مجرموں نے اپنے جرائم کے ثبوت مٹانے کے لیے لاشوں کو ایک قبر سے دوسری اور پھر تیسری اجتماعی قبر میں منتقل کیا، لیکن وہ سچ کو دفنانے میں ناکام رہے۔ بعض متاثرین کی باقیات پانچ مختلف اجتماعی قبروں سے برآمد ہوئیں۔ ان کے مطابق 11 جولائی 2026 تک “بوسنیائی وادیِ شہداء” میں مدفون افراد کی تعداد 6,782 ہو جائے گی، جن میں ہر قبر ایک زندگی، ایک خاندان اور ایک خواب کی نمائندہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سربرینیتسا کی نسل کشی جولائی 1995 میں اچانک شروع نہیں ہوئی بلکہ اس سے قبل 1992 سے بوسنیا و ہرزیگووینا میں نسلی تطہیر، قتل عام، حراستی کیمپوں، شہروں اور دیہات کی تباہی اور بوسنیائی مسلمانوں پر مسلسل مظالم کا سلسلہ جاری تھا۔ ہزاروں خواتین اور بچیوں کو بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
سفیر نے کہا کہ عالمی برادری یہ سب کچھ دیکھتی رہی لیکن مؤثر کارروائی نہ کی۔ اس کے برعکس بوسنیا پر اسلحے کی پابندی عائد کر دی گئی، جس سے متاثرین اپنے دفاع کے حق سے بھی محروم ہو گئے۔ ان کے مطابق سربرینیتسا کی نسل کشی برسوں سے جاری نسلی تطہیر کی انتہا تھی۔
انہوں نے کہا کہ اپریل 1993 میں اقوام متحدہ نے قرارداد 819 کے ذریعے سربرینیتسا کو “محفوظ علاقہ” قرار دیا تھا، جہاں تقریباً 60 ہزار افراد نے پناہ لی، لیکن عالمی برادری کی بے عملی، کمزوری اور بروقت اقدام نہ کرنے کے باعث یہ محفوظ علاقہ تاریخ کے بدترین قتلِ عام کا مقام بن گیا۔ 8,372 افراد شہید ہوئے اور یوں اقوام متحدہ کا محفوظ زون عالمی ضمیر پر ایک مستقل داغ بن گیا۔
سفیر نے کہا کہ ہولوکاسٹ کے بعد دنیا نے “دوبارہ کبھی نہیں” کا عہد کیا تھا، مگر بعد میں روانڈا اور سربرینیتسا میں نسل کشیاں ہوئیں، اور آج غزہ میں بھی دنیا گھروں کی تباہی، بچوں، خواتین، ڈاکٹروں، امدادی کارکنوں اور صحافیوں کی ہلاکتیں براہِ راست دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ “دوبارہ کبھی نہیں” کا وعدہ اپنی معنویت کھو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سربرینیتسا میں ہونے والی نسل کشی بین الاقوامی اور ملکی عدالتوں کے فیصلوں سے ثابت شدہ حقیقت ہے اور اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتقام یا نفرت کے لیے نہیں بلکہ انصاف، متاثرین کے احترام اور بہتر مستقبل کے لیے سچ کو زندہ رکھیں۔
پاکستان کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ بوسنیا و ہرزیگووینا پاکستان کی تاریخی حمایت کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مشکل ترین دنوں میں پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی پہلی انسانی امداد، محصور سرائیوو کے دورے، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان کی سفارتی حمایت، بوسنیائی مہاجرین کی میزبانی، پاکستانی امن دستے کی خدمات اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو میں پاکستان کی معاونت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مئی 2024 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سربرینیتسا نسل کشی کے عالمی یومِ یاد و عکاسی کی قرارداد کی منظوری میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم تھا، جو ایک اخلاقی، تاریخی اور تہذیبی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر سفیر نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں امن، انصاف، بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں کے احترام، جنگی مجرموں کی تمجید کی مذمت، مکالمے کے فروغ اور نسل کشی کی روک تھام کے لیے تعلیم کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام بوسنیا کی اسلامی برادری کے رئیس العلماء کی سربرینیتسا دعا کے ساتھ کیا، جس میں دعا کی گئی کہ “غم امید میں بدل جائے، انتقام انصاف بن جائے، ماں کے آنسو دعا میں ڈھل جائیں، اور سربرینیتسا جیسا سانحہ دنیا میں کبھی کسی کے ساتھ دوبارہ نہ ہو۔”
