اسلام آباد(سب نیوز) سپریم کورٹ میں جعلی ادویات بنانے والی کمپنی کے مالکان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ملزمان کی ضمانتوں میں آئندہ سماعت تک توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔
دوران سماعت عدالت نے ڈریپ کے وکیل کو ہدایت کی کہ ملزمان کے خلاف مزید شواہد پیش کیے جائیں۔ ڈریپ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان جعلی ادویات تیار کرکے بیرون ممالک بھیج رہے تھے، جبکہ سرکاری وکیل نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے بھی ان ادویات کے حوالے سے رپورٹ جاری کی تھی۔
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ ہر روز جعلی ادویات کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کسی کو یہ لائسنس نہیں دیا جا سکتا کہ جعلی ادویات بنا کر لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالے۔
ملزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا متعلقہ کمپنی سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی رینٹ ایگریمنٹ یا ملکیت ان کے نام پر ہے۔
اس پر جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ فارماسیوٹیکل کمپنی گلی کوچوں میں نہیں چل سکتی، ادویات بن رہی تھیں، یہ کوئی چارپائی نہیں تھی جو بغیر اجازت کے تیار کی جا رہی ہو۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ڈریپ ملزمان کے خلاف شواہد عدالت کے سامنے پیش کرے، جبکہ جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ اگر ملزمان بے قصور ہیں تو ڈریپ کو ان سے کیا دشمنی تھی کہ ان کے خلاف مقدمہ بنایا گیا؟
ضیا خالد سمیت تین ملزمان نے سپریم کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ عدالت نے کیس کو جلد آئندہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔
