Wednesday, June 10, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومتازہ تریندنیا میں کس کس ملک کے پاس کتنے ایٹمی ہتھیار موجود ہیں؟ تفصیلی رپورٹ جاری

دنیا میں کس کس ملک کے پاس کتنے ایٹمی ہتھیار موجود ہیں؟ تفصیلی رپورٹ جاری

عالمی امن اور اسلحہ سے متعلق تحقیق کرنے والے ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں دنیا بھر کے ایٹمی ہتھیاروں، جوہری طاقتوں اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔


رپورٹ کے مطابق دنیا کے مجموعی ایٹمی ذخائر کا تقریباً 82 فیصد حصہ صرف دو بڑی طاقتوں، روس اور امریکا، کے پاس موجود ہے۔ جنوری 2026 تک روس کے پاس تقریباً 4,380 جبکہ امریکا کے پاس 3,700 ایٹمی وار ہیڈز موجود تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین تیزی سے اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دے رہا ہے اور اس کے پاس 620 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔ فرانس 290، برطانیہ 225، اسرائیل تقریباً 90 اور شمالی کوریا 60 ایٹمی وار ہیڈز کا مالک ہے۔


جنوبی ایشیا کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں اپنے جوہری پروگراموں میں مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق بھارت کے پاس تقریباً 190 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔


رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک زمین، فضاء اور سمندر سے جوہری حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے نیوکلیئر ٹرائڈ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ پاکستان اور بھارت دونوں اس صلاحیت کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں، تاہم ان کی دفاعی اور جنگی حکمت عملی میں نمایاں فرق موجود ہے۔
عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی جدید کاری تیزی سے جاری ہے، جبکہ ایٹمی کمانڈ اور کنٹرول سسٹمز میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔


رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کا استعمال اگرچہ دفاعی نظام کو جدید بنا سکتا ہے، لیکن اس سے غلط اندازوں، تکنیکی خرابیوں اور غیر ارادی تصادم کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں، جو عالمی امن کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی کشیدگی، علاقائی تنازعات اور جوہری ہتھیاروں کی مسلسل ترقی دنیا کو ایک نئے اسلحہ جاتی مقابلے کی طرف دھکیل رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔