Tuesday, April 7, 2026
ہومتازہ ترینعیدالاضحی پر کانگو وائرس کے پھیلاو کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ایڈوائزری جاری کر دی

عیدالاضحی پر کانگو وائرس کے پھیلاو کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ایڈوائزری جاری کر دی

اسلام آباد (سب نیوز)قومی ادارہ صحت نے کانگو بخار کی روک تھام کے حوالے سے بروقت اور مناسب اقدامات کے لئے صحت کے متعلقہ اداروں کو ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ایڈوائزری کے مطابق عید الاضحی کے دوران کانگو بخار کے خطرے کے پیش نظر، صورت حال کے بارے میں چوکنا رہنے اور بیماری کی منتقلی کو روکنے کے لیے بروقت اقدامات کرنا ضروری ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بخار، ایک خاص قسم کے وائرس (نیرو وائرس)سے ہونے والی بیماری ہے۔ جو کہ متعدد جانوروں، جیسے بکری، بھیڑ اور خرگوش وغیرہ کے بالوں میں چھپی ہوئی چیچڑیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ وائرس انسانوں میں ، یا تو چیچڑی کے کاٹنے سے یا جانور ذبح کرنے کے دوران اور اس کے فورا بعد متاثرہ جانوروں کے خون یا بافتوں کیذریعے منتقل ہوتا ہے۔ انسانوں میں اس وائرس کی منتقلی متاثرہ چیچڑی یا جانوروں کے خون کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص سے صحتمند شخص میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔پاکستان میں کانگو بخار کا پہلا کیس 1976 میں تشخیص ہوا۔ ملک کے دیگر جغرافیائی علاقوں کی نسبت صوبہ بلوچستان سے اس بیماری کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں ۔

تاہم باقی صوبوں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ سے بھی اس بیماری کے کیسز رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔2024 کے دوران، ملک بھر میں سی سی ایچ ایف(کریمین کانگو ہیمرجک فیور)کے مجموعی طور پر 61 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں شرحِ اموات 15 فیصد رہی۔ 2025 میں رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد نمایاں طور پر بڑھ کر 82 تک پہنچ گئی، جس میں 20 اموات ہوئیں؛ جبکہ مارچ 2026 تک، اب تک چار کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔عیدالاضحی کے موقع پر ملک کے تمام صوبوں سے جانوروں کی نقل و حرکت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے اور عام لوگوں کا جانوروں سے رابطہ / قربت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے کانگو بخار کے پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ لہذا اس وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیا کرنا بے حد ضروری ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔