اسلام آباد۔(سب نیوز)
حکومت ،عدلیہ اور ماہرین صحت نے پاکستان میں بچوں کی ابتدائی نشوونما اور غذائیت کی کمی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لئے اصلاحات کے زریعے قوانین کو یکجا کر کے فوری نفاذ کی ضرورت پر زور دیا ۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور یونیسف کے اشتراک سے اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن میں اعلی سطحی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ اس کانفرنس کا عنوان “بکھری ہوئی پالیسیوں سے قابلِ نفاذ حقوق تک: پاکستان میں بچوں کی ابتدائی نشوونما اور غذائیت کے لیے قانونی اصلاحات”تھا ۔
وفاقی شرعی عدالت کے معزز جج، جسٹس سید محمد انور نے اپنے خطاب میں قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہونے کو المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظام کا بکھراؤ ہماری کارکردگی کو کمزور کر رہا ہے۔ ماں کے دودھ کے متبادل (فارمولا ملک) کی غیر قانونی تشہیر روکنے کے لیے ریگولیٹری اداروں کو فعال ہونا ہوگا۔ دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی نہ صرف صحت کا مسئلہ ہے بلکہ ہمارا آئینی اور اسلامی فریضہ بھی ہے ۔
پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے 40 فیصد بچے غذائی قلت (سٹنٹنگ)کی وجہ سے نشوونما میں رکاوٹ کا شکار ہیں ۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے مستقبل کا انحصار آج کے بچوں پر ہے، اس لیے محض اہداف طے کرنے کے بجائے انہیں ‘قابلِ نفاذ حقوق’ میں تبدیل کرنا ہوگا۔نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی عبوری چیئرپرسن نورین بانو نے کہا کہ جب تک خواتین کو کام کی جگہوں پر ڈے کیئر سینٹرز اور دودھ پلانے کے لیے محفوظ ماحول فراہم نہیں کیا جائے گا، بچوں کی صحت کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔
گول میز کانفرنس نے سفارشات کیں کہ انفینٹ فیڈنگ بورڈز کو فوری طور پر بحال کر کے مانیٹرنگ کا نظام سخت کیا جائے۔سرکاری اور نجی دفاتر میں خواتین کے لیے بریسٹ فیڈنگ کارنرز اور ڈے کیئر کی سہولت لازمی قرار دی جائے۔قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے۔وفاق اور صوبوں کے درمیان پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مرکزی میکانزم بنایا جائے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بچوں کی صحت اور غذائیت کو صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی قانونی حق کے طور پر منوائیں گے تاکہ پاکستان کی اگلی نسل کو معذوری اور کمزوری سے بچایا جا سکے۔
