Saturday, April 4, 2026
ہومبریکنگ نیوزبرطانوی حکومت میں امیگریشن پالیسی پر اختلافات، وزیراعظم سے نظرثانی کا مطالبہ

برطانوی حکومت میں امیگریشن پالیسی پر اختلافات، وزیراعظم سے نظرثانی کا مطالبہ

لندن(آئی پی ایس )برطانیہ میں امیگریشن پالیسی پر حکومتی اور پارٹی سطح پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں سینئر لیبر رہنما ڈیم ایملی تھورن بیر نے وزیراعظم سرکیئر اسٹارمر سے اپنے امیگریشن منصوبوں پر دوبارہ غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ڈیم ایملی تھورن بیری کا کہنا ہے کہ مجوزہ پالیسی کے تحت تقریبا 90 ہزار غیر ملکی بچوں کو ٹیکس دہندگان کے فنڈ سے ملنے والی مالی معاونت سے محروم کیا جا سکتا ہے، جس پر نظرثانی ضروری ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہزاروں تارکین وطن کو مستقل رہائش دی جانی چاہیے تاکہ وہ قانونی طور پر ریاستی سہولیات حاصل کر سکیں۔ڈیم ایملی تھورن بیری نے اپنے ہی ساتھیوں پر امیگریشن اصلاحات کیخلاف بحث کر کے ایک نئے رد عمل کو جنم دیا ہے، انکی درخواست پر شمالی ڈرہم کے لیبر ایم پی لیوک اکہورسٹ نے کہا ہے کہ نارتھ ڈرہم میں میرے حلقوں کی طرف سے امیگریشن کو کنٹرول کرنا بنیادی مسئلہ ہے۔

دوسری جانب سیکریٹری داخلہ کی جانب سے متعارف کروائی گئی اصلاحات کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ حکومتی مقف کے مطابق یہ اقدامات ایسے عوامل کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں جو برطانیہ کو دیگر ممالک کے مقابلے میں تارکین وطن کے لیے زیادہ پرکشش بناتے ہیں، خصوصا جب عوامی مالیات پہلے ہی دبا کا شکار ہیں۔

شیڈو انرجی سیکریٹری کلیئر نے کہا کہ کسی ایک ملک کا نام بتایا جائے جہاں جہاں غیر ملکی شہری مستقل رہائشی یا شہری ہوئے بغیر مکمل فوائد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں بنیادی اصولوں کو توڑا نہیں جا سکتا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سیکرٹری داخلہ شبانہ محمو دنے نئی امیگریشن اصلاحات متعارف کروائی ہیں جس کے تحت عارضی پناہ گزینوں کے تحفظ کو پانچ سال سے کم کر کے 30 ماہ کر دیا گیا ہے۔ شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ جب ان کے ملک کو محفوظ سمجھا جائے گا تو بالغوں کساتھ بچوں کو واپس گھر جانا پڑیگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔