Friday, March 20, 2026
ہومبریکنگ نیوزوحدتِ امت سیمینار: علما و مشائخ کا اتحادِ امت، پاکستان کے مقف اور عالمِ اسلام کے اتحاد کے لیے مشترکہ عزم

وحدتِ امت سیمینار: علما و مشائخ کا اتحادِ امت، پاکستان کے مقف اور عالمِ اسلام کے اتحاد کے لیے مشترکہ عزم

لاہور (آئی پی ایس )قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب میں منعقدہ وحدتِ امت سیمینار میں ملک بھر کے مختلف مکاتبِ فکر کے جید علما و مشائخ اور کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ سیمینار میں امتِ مسلمہ کے باہمی اتحاد، بین المسالک ہم آہنگی، پاکستان کے قومی مقف اور موجودہ علاقائی و عالمی حالات پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور دیگر مقررین نے کہا کہ کل جمع المبارک کو یومِ وحدتِ امت کے طور پر منایا جائے گا، جبکہ عید المبارک کے اجتماعات میں بھی وحدتِ امت کے موضوع پر خطابات کیے جائیں گے تاکہ امتِ مسلمہ میں اتحاد، اخوت اور مشترکہ ذمہ داری کے شعور کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

سیمینار میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان کی قیادت مسلمانوں کے اتحاد پر کام کر رہی ہے اور پاکستان ہمیشہ عالمِ اسلام کے مسائل کا حل باہمی اتحاد، رواداری، اعتدال اور مشترکہ بصیرت میں تلاش کرتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا کے باہمی ربط، استحکام اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

علما و مشائخ نے حکومتِ پاکستان کے افغانستان اور موجودہ عالمی حالات سے متعلق مقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی اپیل پر پاکستان کی جانب سے افغانستان میں جنگ بندی کی حمایت ایک درست سمت قدم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغانستان کی عبوری حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے گی اور بے گناہ پاکستانیوں کے خون بہانے والوں کے خلاف مثر اقدامات کرے گی۔

سیمینار کے مقررین نے کہا کہ افغانستان کے بعض غیر ذمہ دار عناصر اور بالخصوص ایک عدالتی شخصیت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جاری فتوے خلافِ شریعت ہیں۔ علما نے ایک بار پھر اس مقف کا اعادہ کیا کہ اگر افغانستان کی عبوری حکومت چاہے تو دونوں جانب کے علما کے مابین قرآن و سنت کی روشنی میں مکالمہ اور فیصلہ ممکن ہے، مگر اس راستے سے گریز افسوسناک ہے۔

مقررین نے پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل/جنرل حافظ سید عاصم منیر اور اہلِ تشیع کے اکابرین کے درمیان ملاقات اور اس دوران ہونے والی گفتگو کو قومی، ملی اور اسلامی جذبات کی ترجمانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان میں وحدت، ہم آہنگی اور مشترکہ قومی سوچ کی عکاس ہے۔ علما و مشائخ نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی مذمت کی اور برادر اسلامی عرب ممالک پر حملوں کو بھی ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات امتِ مسلمہ کو کمزور اور منقسم کرنے کی سازش ہیں، لہذا عالمِ اسلام کو مشترکہ موقف اپنانا ہوگا۔

پاکستان میں وحدتِ امت، بین المسالک ہم آہنگی، تحفظِ مقدساتِ اسلامیہ، اور قومی پیغامِ امن کے بیانیے کو ہر سطح پر فروغ دیا جائے گا، جبکہ فتنہ انگیزی، انتہاپسندی، دہشت گردی اور تفرقہ بازی کے خلاف متحد ہو کر مثر کردار ادا کیا جائے گا۔ سیمینار سے علامہ محمد حسین اکبر، مفتی عبد الکریم خان، ڈاکٹر محمد آصف میر، مفتی مبشر نظامی، مولانا اسلم صدیقی، مولانا عبدالحکیم اطہر، مولانا قاری مبشر رحیمی، مولانا ابراہیم حنفی، قاری فیصل امین، مولانا احتشام الحق آزاد، قاری ساجد، قاری اسلام الدین اور دیگر علما و مشائخ نے بھی خطاب کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔