Monday, March 16, 2026
ہومبریکنگ نیوزپاکستان کی ایران سے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی اجازت کے لیے بات چیت جاری ، روس سے بھی تیل خریدنے کی کوشش

پاکستان کی ایران سے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی اجازت کے لیے بات چیت جاری ، روس سے بھی تیل خریدنے کی کوشش

اسلام آباد(سب نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس سینیٹر منظور احمد کی زیر صدارت ہواجس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ صورتحال، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سبسڈی کے ممکنہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ مشرق وسطٰی میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور اس وقت جہازوں کی آمد و رفت بند ہے۔ سیکرٹری کے مطابق، ملک کی 70 فیصد پیٹرولیم کی ضرورت مشرق وسطٰی سے پوری ہوتی ہے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر سے بڑھ کر 187 ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت 74 ڈالر سے 130 ڈالر پر پہنچ گئی ہے۔

سیکرٹری پیٹرولیم نے آگاہ کیا کہ موجودہ ذخائر استعمال میں ہیں اور اب یورو 5 معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق قائم وزارتی کمیٹی روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہے۔

پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی اور جے پی ون کے ذخائر بالترتیب 27، 21، 9 اور 14 دن کے لیے کافی ہیں۔ سینیٹر منظور احمد نے کہا کہ ملک میں 28 دن کے ذخائر موجود تھے جب قیمتیں بڑھائی گئیں۔

اجلاس میں اوگرا حکام نے عالمی مارکیٹ کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل 103 ڈالر فی بیرل، دبئی خام تیل 146 ڈالر فی بیرل، اور ڈیزل 189 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ امریکی کارروائی کے بعد ایران سے متعلق عالمی خدشات میں اضافہ ہوا ہے، اور ایران نے عالمی منڈی کو 200 ڈالر فی بیرل تیل کی وارننگ دی ہے۔

سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ روس سے بھی تیل خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایران سے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی اجازت کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے چار جہاز تیل لے کر پہنچنے والے تھے لیکن موجودہ کشیدگی کے باعث ریڈ سی کے راستے 12 دن لگ رہے ہیں۔

گیس کی سپلائی کے حوالے سے ڈی جی مائع گیس نے بریفنگ دی کہ قطر سے گیس کی سپلائی مکمل معطل ہو چکی ہے، لیکن مقامی پیداوار بڑھا دی گئی ہے۔ مارچ میں 8 میں سے 2 کارگوز، اور اپریل میں 6 میں سے 3 کارگوز نہیں پہنچ سکے۔ حکومت نے گھریلو صارفین اور صنعتی شعبے کے لیے گیس کی ترجیحی تقسیم اور کفایت شعاری کے منصوبے پر بھی بریفنگ دی۔

سبسڈی کے حوالے سے بتایا گیا کہ حکومت نے کفایت شعاری کے تحت بچائی گئی 23 ارب روپے کی سبسڈی موٹر سائیکل، رکشہ اور مستحقین کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے اس پر کام شروع کر دیا ہے اور جیسا کہ کرونا کے دوران سبسڈی دی گئی تھی، اسی طرز پر اقدامات کیے جائیں گے۔

کمیٹی کے اراکین نے حکومت پر زور دیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔ سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا کہ ملک میں 20 دن کے ذخائر موجود تھے اور 55 روپے کے اضافے سے عوام کی ضروریات کی ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر قیمت بڑھانی تھی تو موجودہ خریداری قیمت کے مطابق بڑھانی چاہیے تھی اور عوام کو لیوی کی مد میں ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے تھا۔

اجلاس میں عالمی کشیدگی، مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملکی ذخائر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور کمیٹی نے مناسب اقدامات اور سبسڈی پالیسی کے لیے حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔