Monday, March 16, 2026
ہومتازہ ترینبھارت اس وقت یاسین ملک کو پھانسی دینے کے درپے ہے،مشعال ملک

بھارت اس وقت یاسین ملک کو پھانسی دینے کے درپے ہے،مشعال ملک

اسلام آباد: چیئر پرسن پیس اینڈ کلچرل آرگنائزیشن و حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ خطے میں پھیلنے والی بدامنی اور عدم استحکام کےذمہ دار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور نیتن یاہو ہیں۔ دونوں رہنما خطے میں کشیدگی بڑھانے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے میں کردار ادا کر رہے ۔افغانستان بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں نہ کھیلے۔ہماری لڑائی افغانستان سے نہیں بلکہ وہاں پر موجود پراکسیز سے ہے۔افغان سفیر سے ملاقات میں انہیں کہا افغانستان بھارت کی پراکسی نہ بنے۔

یاسین ملک نے کشمیر کی آزادی کا علم اٹھایا اور شہادت ہماری منزل ہے۔بھارت آج یاسین ملک کو سزائے موت دینا چاہتا ہے۔غزہ بورڈ آف پیس کیلئے پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سنجیدہ کوششیں کیں تاکہ فلسطین میں امن ہو سکے۔ہماری خواہش تھی کہ مسئلہ کشمیر پر بھی غزہ طرزکا بورڈ آف پیس بنایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار مشعال ملک نے سوشل میڈیا انفلیونسرز اور صحافیوں کے وفد سے ایک ملاقات میں کیا ۔وفد میں امجد خٹک ،نقی گردیزی ،حسن ہمدانی،یوسف ہمدانی،خواجہ حماد خورشید ،راجہ حسنین ،عدنان یعقوب اور ارسلان لون شامل تھے۔ مشعال ملک نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ جب نریندر مودی اسرائیل کے دورے پر تھاتو اس کےبعد تہران پر حملہ کیا گیا۔اس حملے کے نتیجہ میں ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای شہید ہوئے۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کشمیری عوام کے ہمدرد تھے اور وہ کشمیر کے مسئلے پر ہمیشہ آواز اٹھاتے رہے۔مشعال حسین ملک نے کہا کہ بھارت اس وقت یاسین ملک کو پھانسی دینے کے درپے ہے جو کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی ایک نمایاں علامت ہیں۔مودی اور نیتن یاہو کےاصل چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھرپور آواز اٹھائی جائے۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان سے کوئی جنگ نہیں ہے۔ مسئلہ افغانستان میں موجود بھارتی اور اسرائیلی پراکسی عناصر ہیں جو پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں افغانستان کے سفیر سے ان کی ملاقات ہوئی جس کے بعد بھارت میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اوراس وقت اس ملاقات کو لے کر بھارت کافی واویلا بھی کررہاہے۔ مشعال ملک نے کہا کہ یہ ملاقات غیر رسمی تھی جو ایرانی سفیر کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ افغان سفیر سے ملاقات کے دوران افغان سفیر کو یہ پیغام دیا کہ افغانستان کو بھارت کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہیے اور اپنے ملک سے بھارتی اور اسرائیلی پراکسیز کا خاتمہ کرنا چاہیے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔مشعال حسین ملک نےکہا کہ بیک ڈور ڈپلومیسی کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان نے افغانستان کے سفیر کو ملک بدر نہیں کیا اور نہ ہی افغانستان نے پاکستان میں موجود اپنے سفیر کو واپس بلایا ہے جو کہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔کشمیر کی تحریک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کا علم یاسین ملک نے بلند کیا ہے اور کشمیری عوام اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور مسلمان ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مایوسی کفر ہے۔مشعال حسین ملک نے کہا کہ نیتن یاہو فلسطینیوں کے اور نریندر مودی کشمیریوں کے قاتل ہیں۔ انہوں نے دونوں رہنماؤں کو دور حاضر کے یزیدقرار دیتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم اقوام کا ساتھ دیں اور کشمیریوں اور فلسطینیوں کے خلاف مظالم پر آواز بلند کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کے نتیجے میں غزہ کے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ جس کیلئے بورڈ آف پیس قائم کیا گیا جس میں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ بھی شامل تھی اور پاکستان نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا۔مشعال حسین ملک نے کہا کہ جس طرح غزہ کے لیے بورڈ آف پیس بنایا گیا اسی طرز پر مسئلہ کشمیر کے لیے بھی ایک بورڈ آف پیس قائم کیا جائے تاکہ بھارتی جیلوں میں قید کشمیری قیادت جن میں یاسین ملک، شبیرشاہ اور آسیہ اندرابی سمیت دیگر قائدین شامل ہیں کی رہائی ممکن بنائی جا سکے اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نکالا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے جب ایران کے ساتھ امن مذاکرات جاری تھے تو اسی دوران مودی اسرائیل کے دورے پر گئے اور وہاں انہوں نے بھارت کو مدر لینڈ اور اسرائیل کو فادر لینڈ قرار دیا۔اسرائیل کی جانب سےا یران پر حملہ کر کے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔مشعال ملک نے کہا کہ مودی اور نیتن یاہو کی ملاقاتوں کے بعد دنیا میں امن کے لیے جاری کئی کوششیں متاثر ہوئیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی سپریم لیڈر وہ واحد شخصیت تھے جو اپنے اہل خانہ سمیت شہید ہوئے اور اس واقعے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا اس وقت ایک نئی عالمی کشیدگی کی طرف بڑھ رہی ہے اور بعض حلقوں کے مطابق تیسری عالمی جنگ کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ مشعال ملک نے کہا کہ مسلمان قومیں بزدل نہیں اور نہ ہی دھمکیوں یا گولہ باری سے ڈرنے والی ہیں۔ ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے شہادت نصیب ہو، امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ہماری کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ مودی اور نیتن یاہو نے خطے میں جاری امن کی کوششوں کو نقصان پہنچایا اور پاکستان و افغانستان کے درمیان دراڑیں پیدا کرنے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی را سرگرم ہے۔انہوں نے افغان سفیر کو مشورہ دیا کہ افغانستان کو چاہیے کہ وہ بھارت کے اثر و رسوخ سے خود کو الگ کرے، جس طرح بنگلہ دیش میں مودی کے اثرات کو مسترد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری اور فلسطینی عوام کو افغان قوم سے امید ہے کہ وہ مظلوموں کی آواز بنیں گے نہ کہ بھارت کی پالیسیوں کا ساتھ دیں گے۔پاکستان اور افغانستان کو مل کر بھارت اور اسرائیل کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ افغان قوم نے ہمیشہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کا ساتھ دیا ہے اور پاکستان نے بھی ہمیشہ افغان عوام کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے افغانستان اور ایران کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سرگرمیاں کروا سکتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو ایران سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کیں۔ نریندر مودی اور نیتن یاہو انسانیت کے قاتل ہیں اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ ان کا ساتھ دینے کے بجائے مظلوم اقوام کے حق میں کھڑا ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔