Friday, March 13, 2026
ہومتازہ ترینکولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول پاکستان ( سی ٹی سی پاک) کی نوجوانوں کو نکوٹین پاوچز کا نشانہ بنانے والی سیلیبریٹی تشہیری مہم پر تشویش

کولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول پاکستان ( سی ٹی سی پاک) کی نوجوانوں کو نکوٹین پاوچز کا نشانہ بنانے والی سیلیبریٹی تشہیری مہم پر تشویش

اسلام آباد(سب نیوز) کولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول پاکستان (سی ٹی سی پاک)، جو عوامی صحت کے تحفظ اور تمباکو کنٹرول کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے والی ہم خیال سول سوسائٹی تنظیموں کا ایک اتحاد ہے، نے حال ہی میں شروع کی گئی نکوٹین پاؤچز کی تشہیری مہم پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ مصنوعات ZYN اور VELO کے برانڈ نام سے مارکیٹ کی جا رہی ہیں۔

کولیشن نے خبردار کیا ہے کہ یہ تشہیری مہم پاکستان کے نوجوانوں میں نکوٹین کی لت کو فروغ دینے کا سبب بن رہی ہیں ۔یہ مہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس میں پاکستان شو بز انڈسٹری کی معروف شخصیات شامل ہیں۔ اشتہار میں نکوٹین پاؤچز کو ایک فیشن ایبل اور جدید طرزِ زندگی کے انتخاب کے طور پر پیش کیا گیا ہےجس کے باعث اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خاصی توجہ حاصل ہورہی ہے۔عوامی صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہم میں استعمال ہونے والے پیغامات، یہ تاثر پیدا کر سکتے ہیں کہ نکوٹین مصنوعات بے ضرر متبادل ہیں، حالانکہ نکوٹین کی لت اور اس کے مضر اثرات سائنسی طور پر ثابت شدہ ہیں۔سی ٹی سی پاک کے جب مشہور شخصیات نکوٹین مصنوعات کی تشہیر کرتی ہیں تو یہ نوجوانوں کو ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ یہ مصنوعات فیشن ایبل اور سماجی طور پر قابل قبول ہیں۔

نکوٹین پاؤچز کو سگریٹ کے دھوئیں سے پاک متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان مصنوعات میں پھر بھی نکوٹین موجود ہوتی ہے، جو ایک انتہائی نشہ آور کیمیکل ہے اور اس سے دل کی بیماریوں کے خطرات اور نوجوانوں میں دماغی نشوونما پر منفی اثرات پیدا ہو تےہیں۔عوامی صحت کے ماہرین کے مطابق اس مہم کا انداز جس میں پرتعیش ماحول، سماجی تقریبات اور مقبول شخصیات کو دکھایا گیا ہے یہ تمباکو انڈسٹری کی وہی پرانی مارکیٹنگ حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جسے ماضی میں نوجوان صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔پاکستان پہلے ہی تمباکو کے استعمال کے باعث صحت کے ایک بڑے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے،

جس میں سگریٹ نوشی کے ساتھ ساتھ بغیر دھوئیں والے تمباکو کی مصنوعات جیسے گٹکا، نسوار اور پان کے آمیزے کا وسیع استعمال شامل ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ریگولیٹری ادارے بروقت کارروائی نہ کریں تو ابھرتی ہوئی نکوٹین مصنوعات کی جارحانہ تشہیر نوجوانوں میں نکوٹین کی لت کی ایک نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے۔سی ٹی سی پاک وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ نکوٹین مصنوعات کی مارکیٹنگ اور تشہیر، خصوصاً سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، بین کی جائیں کیونکہ اس طرح کا مواد آسانی سے نوجوانوں تک پہنچ جاتا ہے۔ابھرتی ہوئی نکوٹین مصنوعات کے حوالے سے عالمی سطح پر جاری بحث کے تناظر میں سی ٹی سی پاک اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستان کو احتیاطی اور عوامی صحت پر مبنی ریگولیٹری پالیسی اپنانی چاہیے تاکہ نوجوانوں کو نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنا قومی ترجیح بن سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔