Thursday, March 5, 2026
ہومپاکستانسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس، سابقہ پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی تنخواہوں اور تبادلوں سے متعلق پیش رفت کا جائزہ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس، سابقہ پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی تنخواہوں اور تبادلوں سے متعلق پیش رفت کا جائزہ

اسلام آباد (سب نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز کے اولڈ پپس ہال میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سابقہ پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی)کے ملازمین کی مختلف وفاقی اداروں میں منتقلی اور گزشتہ سات ماہ سے واجب الادا تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق گزشتہ اجلاس میں جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کے اجلاس میں 16 فروری 2026 کو ہونے والے اجلاس کی ہدایات پر مختلف وزارتوں اور اداروں کی جانب سے پیش کی گئی تعمیلی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے ان اداروں کو ہدایت کی تھی کہ پاک پی ڈبلیو ڈی کے باقی ماندہ مینٹیننس اسٹاف کو اپنے اداروں میں جذب کیا جائے اور انہیں گزشتہ سات ماہ کے بقایا جات سمیت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ یہ ہدایات وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں وزارت ہاسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے 6 ستمبر 2024 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت دی گئی تھیں۔

اجلاس میں جن اداروں کا جائزہ لیا گیا ان میں وزارت داخلہ (سول ڈیفنس)، وزارت منصوبہ بندی، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، انٹیلی جنس بیورو، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی، بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان کراچی اور وزارت قومی صحت، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن شامل تھے۔اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمود نے متعلقہ اداروں کے نمائندگان کو طلب کیا اور وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں مختلف محکموں میں ضم کیے گئے پاک پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق پیش رفت سے آگاہی حاصل کی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمود نے کہا کہ کمیٹی کی مداخلت کا واحد مقصد متاثرہ ملازمین کو بلا تاخیر تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی چاہتی ہے کہ عید سے قبل یہ مسئلہ حل ہو جائے تاکہ انتظامی تبدیلیوں کی وجہ سے بے قصور ملازمین کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 5 مارچ 2026 تک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مختلف اداروں کے 3 ہزار 225 ملازمین کی تنخواہوں اور تبادلوں کی صورتحال زیر جائزہ ہے۔ ان میں سے 2 ہزار 940 ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں جو کل تعداد کا 91.1 فیصد بنتا ہے۔ ان ملازمین کو مختلف وفاقی اداروں میں جذب کیا جا چکا ہے۔ سب سے زیادہ 1493 ملازمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)میں تعینات کیے گئے ہیں جبکہ 970 ملازمین اسٹیٹ آفس میں شامل کیے گئے ہیں۔ دیگر اداروں میں وزارت دفاع میں 95، فیڈرل شریعت کورٹ میں ایک، وزارت خارجہ میں 60، فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں 116، قومی احتساب بیورو میں 35، کنٹرولر جنرل آف اکانٹس میں 90 اور انٹیلی جنس بیورو میں 80 ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 185 ملازمین ایسے ہیں جنہیں متعلقہ اداروں نے اپنے ماتحت لے لیا ہے تاہم تنخواہوں کی ادائیگی کے انتظامات ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے۔ یہ تعداد کل ملازمین کا 5.8 فیصد ہے۔ ان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 40، وزارت دفاع کے پاکستان میٹرو لوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے 49، کیبنٹ ڈویژن کے 30 اور بارڈر ہیلتھ سروسز کے تحت جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کراچی کے 66 ملازمین شامل ہیں۔ متعلقہ اداروں نے رواں مالی سال کے دوران فنڈز کی فراہمی کے لیے فنانس ڈویژن سے رابطہ کیا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ 30 ملازمین ایسے ہیں جن کی منتقلی کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ ان میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے 20 اور انٹیلی جنس بیورو کے 10 ملازمین شامل ہیں۔مزید بتایا گیا کہ 70 ملازمین ایسے ہیں جن کی منتقلی کا عمل ابھی جاری ہے۔ ان میں وزارت منصوبہ بندی کے 11، وزارت مذہبی امور کے 9، وزارت بحری امور کے 23، وزارت داخلہ کے سول ڈیفنس کے 7 اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے 20 ملازمین شامل ہیں۔ یاد دلایا گیا کہ 4 اور 15 دسمبر 2025 کے اجلاسوں میں ان اداروں نے باقی ماندہ ملازمین کی جلد منتقلی کی یقین دہانی کرائی تھی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمود نے تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی واضح ہدایات کے باوجود بعض معاملات کا زیر التوا رہنا حیران کن ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تین دن کے اندر تعمیلی رپورٹس جمع کرائیں اور مسئلے کو فوری حل کیا جائے جبکہ جن اداروں کو مزید وقت درکار ہے انہیں حتمی کارروائی مکمل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ سات دن کی مہلت دی گئی۔کمیٹی نے ایجنڈا آئٹم نمبر 4 کے تحت لاہور میں واقع چمبا ہاوس کی ملکیت اور ریکارڈ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس سلسلے میں اسٹیٹ آفس لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر صاغب گلزار نے صوبائی حکام کے ساتھ متعدد اجلاس کیے جن میں اسسٹنٹ کمشنر تحصیل سٹی لاہور اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لاہور شامل تھے۔ صوبائی حکام نے وفاقی حکومت سے چمبا ہاس کی ملکیت سے متعلق دستاویزات طلب کی ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ماضی میں پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ وزارت ہاسنگ اینڈ ورکس کی اراضی کا نگران ادارہ رہا ہے، تاہم اسٹیٹ آفس کی جانب سے بارہا درخواست کے باوجود چمبا ہاوس سے متعلق مکمل ریکارڈ پاک پی ڈبلیو ڈی کے آرکائیوز میں دستیاب نہیں ہو سکا۔ صرف ایک چیک کی نقل دستیاب ہے جس سے جائیداد کی خریداری کی ادائیگی ظاہر ہوتی ہے۔ مکمل ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے معاملے کی مفاہمت اور پیش رفت تعطل کا شکار ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ “سنٹرل گورنمنٹ” اور “فیڈرل گورنمنٹ” کی اصطلاحات کی وضاحت کے لیے معاملہ وزارت قانون و انصاف اور کیبنٹ ڈویژن کو بھجوا دیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ)رولز 1964 کے تحت سنٹرل گورنمنٹ سے مراد وفاقی حکومت ہی ہے۔کمیٹی نے سینیٹ اجلاس میں 4 نومبر 2025 کو سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پوچھے گئے سوال نمبر 6 کی رپورٹ کو بھی حتمی شکل دے دی۔ اس سوال میں اسلام آباد میں سرکاری رہائش گاہوں میں مقیم ریٹائرڈ سرکاری افسران اور ان کے ذمے واجب الادا کرائے کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ یہ معاملہ رپورٹ مرتب کر کے 60 دن کے اندر کمیٹی کو پیش کرنے کے لیے بھجوایا گیا تھا جسے مکمل کر کے نمٹا دیا گیا۔اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے کی عدم حاضری کا بھی سخت نوٹس لیا گیا۔ سینیٹر بلال احمد خان نے کہا کہ اگر چیئرمین سی ڈی اے آئندہ اجلاس میں بھی پیش نہ ہوئے تو وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس کے مزید اجلاسوں میں شرکت نہیں کریں گے۔ کمیٹی نے چیئرمین سی ڈی اے کو آئندہ اجلاس میں بطور آخری وارننگ طلب کر لیا اور واضح کیا کہ عدم حاضری کی صورت میں قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔اجلاس میں کمیٹی ارکان سینیٹر بلال احمد خان، سینیٹر جان محمد، سینیٹر ہدایت اللہ خان، سینیٹر عبدالشکور خان، سینیٹر خالدہ عتیب، سینیٹر حسینہ بانو، سینیٹر محمد اسلم ابڑو اور سینیٹر نسیمہ احسان نے شرکت کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔