اسلام آبا (آئی پی ایس )مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کئی ساتھیوں سمیت شہید ہو گئے ہیں، جس کے بعد مسلم دنیا میں شدید غم و غصے اور بے چینی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔اس دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی موت کے حوالے سے افواہیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
یہ افواہیں ایک پوسٹ سے شروع ہوئیں جو یو ایس اے ملٹر پاور ٹرانسپورس نامی اکانٹ سے شیئر کی گئی، جس میں دعوی کیا گیا کہ اگر خبر درست ہے تو نیتن یاہو ایرانی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ہیں۔اس پوسٹ کو 5 ملین سے زیادہ ویوز ملے، اور ہزاروں لائکس، ری پوسٹس اور کمنٹس سامنے آئے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ افواہیں بے بنیاد ہیں۔ نیتن یاہو زندہ ہیں اور تل ابیب میں سیکیورٹی میٹنگز میں مصروف ہیں۔ اسرائیلی حکومت اور بین الاقوامی میڈیا نے ان کی موت کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ افواہیں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی حالیہ شہادت کے بعد پھیلنے والے تنا کے دوران سامنے آئیں اور زیادہ تر اے آئی جنریٹڈ تصاویر یا ایڈیٹڈ مواد پر مبنی تھیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے گروک پر براہِ راست سوالات کیے، جیسے کیا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی موت ہوگئی؟ کیا نیتن یاہو حقیقت میں مر گئے ہیں؟گروک نے ان تمام سوالات کے جواب میں واضح کیا کہ نیتن یاہو زندہ ہیں اور افواہیں مکمل طور پر جھوٹی ہیں۔ گروک نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ افواہیں جھوٹی ہیں۔ نیتن یاہو زندہ ہیں اور تل ابیب میں سیکیورٹی میٹنگز میں مصروف ہیں۔ اسرائیلی حکومت اور بین الاقوامی میڈیا نے ان کی موت کی خبروں کی تردید کی ہے۔
