ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مری ڈاکٹررضا تنویرسپرا نے مری میں سیاحوں، مقامی افراد اور تاجر برادری سمیت ہر طبقے کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کرایہ داری ایکٹ پر 100 فیصد عمل درآمد کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
رہائشی نگرانی مہم (اکاموڈیشن مانیٹرنگ ڈرائیو) کے دوران مری کے شہری، دیہی اور سیاحتی مقامات پر ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، فلیٹس، اپارٹمنٹس اور ائیر بی این بی (Airbnb) سمیت دیگر ایپس کے ذریعے کرائے پر دیئے جانے والے یونٹس میں آمدورفت کا مکمل ریکارڈ ڈیجیٹلائزڈ ہوگا۔
مالکان کو کرایہ داری رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد ‘شناختِ منزل’ کے ذریعے امن و امان کی ضمانت فراہم کرنا اور مری کے ہر گھر اور قیام گاہ کی حرمت و تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ڈی پی او مری ڈاکٹر رضاتنویرنے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مری ایک عالمی سیاحتی مرکز ہے جہاں سیزن کے دوران سیاحوں کی ایک بڑی تعداد قیام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب صرف روایتی ہوٹل ہی نہیں، بلکہ وہ تمام نجی مکانات اور اپارٹمنٹس جو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کرائے پر دیے جا رہے ہیں، ان کا اندراج بھی لازمی ہوگا۔ اس مقصد کے لیے تمام مالکان اور منتظمین کو ‘ہوٹل آئی’ (Hotel Eye) سافٹ ویئر فراہم کیا جائے گا تاکہ ہر مہمان کا ڈیٹا ریئل ٹائم میں پولیس کو موصول ہو سکے۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مقررہ دو ہفتوں کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد رجسٹریشن نہ کروانے والے مالکان کے خلاف “کرایہ داری ایکٹ” کے تحت بلا امتیاز فوری قانونی کارروائی اور مقدمات درج کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں ضلع مری کے تمام ایس ایچ اوز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں کرایہ داروں کی 100 فیصد چیکنگ یقینی بنائیں تاکہ کوئی بھی غیر مقامی فرد پولیس ریکارڈ سے باہر نہ رہے۔
ڈاکٹر رضاتنویرنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مری کو “سیف سٹی” بنانے میں پولیس کا ساتھ دیں اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے بروقت اندراج کروائیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مری پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لاتی رہے گی۔
