واشنگٹن:(آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں، ٹیرف کے نفاذ کے باوجود مختلف ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، پاکستانی وزیر اعظم نے مانا کہ میں نے 35 ملین لوگوں کی جانیں بچائی ہیں۔
اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران ایسے میزائل بنارہا ہے جو جلد ہی امریکا تک پہنچیں گے، ہم ایران سے ڈیل کی کوشش کررہے ہیں، ایران میں 32 ہزار مظاہرین کو حکومت نے قتل کیا، میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو، ہم نے ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں رکوائیں۔ ہم امن بزور طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملوں نے ملک کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا۔ تہران نے یہ واضح یقین دہانی نہیں کرائی کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی۔ خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی تاریخ میں سرحدی صورتحال سب سے زیادہ محفوظ ہے اور گزشتہ 9 ماہ میں کوئی بھی غیر قانونی تارکِ وطن امریکا میں داخل نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ غیر قانونی امیگرینٹس امریکا میں قیام کریں۔
معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا آج پہلے سے زیادہ خوشحال اور مضبوط ہے اور صرف ایک سال میں بڑی تبدیلیاں ممکن بنائی گئی ہیں۔ ان کے بقول، امریکا غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک تباہی کے قریب تھا جبکہ اب امریکا دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک بن چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال انہوں نے کانگریس سے ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کیا جسے ریپبلکنز نے منظور کروایا، جبکہ تمام ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی کیونکہ وہ ٹیکس بڑھانا چاہتے تھے۔
تقریر کے دوران رکنِ کانگریس آل گرین، الہان عمر نے احتجاج کیا اور بینر لہرانے کی کوشش کی جس پر انہیں کانگریس کی عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔
صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔
