اسلام آباد(سب نیوز) عافیہ صدیقی کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کردی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے، عدالتی فیصلے میہں جسٹس فیلکس فرینکفرٹر کا اقوال بھی شامل ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ نے تحریری آرڈر جاری کیا ہے، کیس میں 21 جولائی کا آرڈر ایسے بینچ نے جاری کیا جو روسٹر کے تحت قانونی طور پر وجود میں نہیں آیا تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معاملہ خود ساختہ عدالتی کارروائی کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ماسٹر آف دی روسٹر ہیں، بینچز کی تشکیل کا اختیار رکھتے ہیں۔
تحریری فیصلے کے مطابق صرف چیف جسٹس کی منظوری سے قانونی طور پر تشکیل کردہ بینچ کو اختیار کا سماعت ہے، روسٹر یا بینچ کی تشکیل سے متعلق کوئی بھی اعتراض انتظامی طریقہ کار کے تحت حل کیا جاسکتا ہے۔کوئی بینچ آرٹیکل 202 اور متعلقہ ہائیکورٹ رولز کے تحت چیف جسٹس کی منظوری سے وجود میں آتا ہے، کوئی بھی جج یا بینچ ازخود کسی مقدمہ کو خود اپنے سپرد نہیں کرسکتا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی بینچ ازخود کوسی کیس کو شروع، برقرار، منتقل یا اپنے دائرہ اختیار میں نہیں لے سکتا، صرف چیف جسٹس کے پاس بطور ماسٹر آف روسٹر یہ اختیار حاصل ہے، چیف جسٹس کو متضاد فیصلوں سے بچنے کے لیے ایک نوعیت کی درخواستیں یکجا کرنے کا اختیار ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو عدالتی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ایک نوعیت کی درخواستیں یکجا کرنے کا اختیار ہے۔عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس عدالتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کیس کسی بھی مرحلے پر دوسرے بین منتقل کرسکتے ہیں، چیف جسٹس اس بینچ کی رضامندی حاصل کرنے کے پابند نہیں جس کے سامنے یہ مقدمات زیر سماعت ہوں۔
عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
