تحریر: محمد محسن اقبال
جب پاکستان نے چند اسلامی ممالک کے ساتھ ڈیووس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے قائم کردہ امن بورڈ میں شمولیت کے معاہدے پر، امریکی صدر کی موجودگی میں، دستخط کیے تو مختلف حلقوں سے تنقید کی آوازیں بلند ہوئیں۔ بعض نے سوال اٹھایا کہ جب اقوام متحدہ پہلے ہی امن اور تعمیرِ نو کے لیے موجود ہے تو اس نئے فورم کی کیا ضرورت ہے؟ کچھ نے پسِ پردہ محرکات پر شبہ ظاہر کیا اور کچھ کو سفارتی الجھنوں کا اندیشہ ہوا۔ تاہم جو لوگ تاریخ کو جذبات کے بجائے سنجیدگی سے پڑھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ایسے پلیٹ فارم میں شرکت نہ سادہ لوحی ہے اور نہ محض علامتی ہم آہنگی؛ بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا اقدام ہے جو یادداشت، تجربے اور بیداری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
پاکستان بین الاقوامی وعدوں کی طرف تاریخی بھول کے ساتھ نہیں بڑھتا۔ اس کی قیادت—سیاسی ہو یا عسکری—ان سانحات سے بخوبی آگاہ ہے جن میں عالمی تحفظ کے بلند بانگ دعوے فیصلہ کن گھڑی میں خاموشی میں بدل گئے۔ آج پاکستان اور اس کی مسلح افواج کی قیادت پر جو عالمی توجہ مرکوز ہے، وہ بے سبب نہیں۔ پاکستان نے براعظموں میں اقوام متحدہ کے تحت امن مشنز میں طویل خدمات انجام دی ہیں۔ اسے امن قائم رکھنے کی عظمت کا بھی ادراک ہے اور بے جا انحصار کے خطرات کا بھی۔ یہی متوازن شعور اس کے موجودہ طرزِ عمل کی تشکیل کرتا ہے؛ یعنی اشتراک بھی، مگر فریب سے محفوظ رہتے ہوئے؛ تعاون بھی، مگر بیداری کے ساتھ۔
بوسنیا کی یاد اس امر کی سنجیدہ دلیل ہے کہ ہر وعد? تحفظ کے ساتھ احتیاط لازم ہے۔ جولائی 1995ء میں، قصبہ سریبرینیکا جسے اقوامِ متحدہ نے‘‘محفوظ علاقہ’’قرار دیا تھا—دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے تاریک ترین ابواب میں سے ایک کا گواہ بنا۔ اس محصور شہر کی حفاظت ڈچ امن دستوں کے سپرد تھی جو اقوام متحدہ کی امن فورس کے تحت خدمات انجام دے رہے تھے۔ یہ فورس 1992ء میں یوگوسلاویہ کی جنگوں کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قائم کی گئی تھی، خصوصاً بوسنیا اور کروشیا میں۔ اس کے فرائض میں علیحدگی کے علاقوں اور اسلحہ کنٹرول پوائنٹس کی نگرانی اور اسلحہ کے اخراجی زونز کی دیکھ بھال شامل تھی۔ الفاظ میں مینڈیٹ واضح تھا، مگر عمل میں ابہام تھا۔ ڈچ بٹالین کو ہزاروں بوسنیائی مسلمان شہریوں کی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا تھا جو پیش قدمی کرتی سرب افواج سے پناہ لینے آئے تھے۔
سانحے سے ایک شام پہلے لی گئی ایک تصویر بعد ازاں المیے کی علامت بن گئی؛ ڈچ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل تھوم کاریمانس سرب فوجی کمانڈر جنرل راٹکو ملاڈیچ کے ساتھ جام اٹھائے گفتگو کر رہے ہیں۔ اس لمح? فانی میں سفارت کاری کو گویا دشمنی پر غلبہ حاصل تھا۔ یقین دہانیاں دی گئیں، اعتماد کا اظہار ہوا، مگر مذاکرات کی ظاہری چمک کے نیچے ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی پوشیدہ تھی۔
اس سے قبل سریبرینیکا میں موجود بوسنیائی مسلمان محافظین محدود وسائل کے باوجود کئی حملے پسپا کر چکے تھے۔ لیکن بین الاقوامی دباؤ اور اقوامِ متحدہ کے تحفظ کے وعدے کے احترام میں انہیں اپنے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا گیا۔ کمانڈر کاریمانس نے یقین دلایا کہ اقوامِ متحدہ ان کی سلامتی کی ضامن ہوگی۔ عالمی برادری کی ساکھ پر اعتماد کرتے ہوئے بہت سوں نے اس پر عمل کیا۔ اسلحہ رکھ دیا گیا، دفاعی مورچے خالی کر دیے گئے۔ لوگوں نے سمجھا کہ نیلی ٹوپیاں ناقابلِ تسخیر ڈھال کی علامت ہیں۔
مگر صبح ہوتے ہی یہ سراب ٹوٹ گیا۔ سرب افواج منظم انداز میں سریبرینیکا میں داخل ہو گئیں۔ نیٹو کی فضائی مدد کے لیے اپیلیں تاخیر اور تساہل کا شکار ہوئیں۔ جب محدود فضائی حملوں کی اجازت ملی بھی تو وہ ناکافی ثابت ہوئے۔ فیصلہ کن لمحے پر ڈچ امن دستوں نے مسلح مزاحمت نہ کی۔ اس کے بجائے انہوں نے مردوں اور لڑکوں کو عورتوں اور بچوں سے‘‘جانچ پڑتال’’کے نام پر الگ کرنے کی نگرانی کی۔ دل خراش مناظر میں خاندان اُن نگاہوں کے سامنے بکھر گئے جو حفاظت پر مامور تھیں۔
اگلے چار دنوں میں آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو منظم طریقے سے قتل کیا گیا۔ اجتماعی قبریں خاموشی میں بھری گئیں اور بعد ازاں غم کے ساتھ کھودی گئیں۔ سریبرینیکا کا قتلِ عام اچانک ابھرنے والا جنون نہ تھا، بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بند مہم تھی جو ایک بین الاقوامی فورس کی موجودگی میں انجام دی گئی جس نے نہ فیصلہ کن مداخلت کی اور نہ اس ظلم کو روک سکی۔ بعد کی تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں نے اسے نسل کشی قرار دیا۔ برسوں بعد نیدرلینڈ کی عدالتوں نے بھی بعض متاثرین کے تحفظ میں ناکامی پر جزوی ذمہ داری تسلیم کی۔
یہ سانحہ محض حملہ آوروں کی درندگی کی داستان نہیں تھا؛ یہ اُس نظام کی ناکامی کی بھی شہادت تھا جس نے تحفظ کا وعدہ کیا مگر اسے نبھا نہ سکا۔ کمزور آبادی کو تحفظ کی یقین دہانیوں کے سائے میں غیر مسلح کر دینا اس باب کا سب سے ہولناک سبق ہے۔ یہی وہ تنبیہ ہے جو قرآنِ حکیم میں بیان ہوئی:‘‘کافر چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تاکہ وہ تم پر ایک ہی بار حملہ آور ہو جائیں’’(النساء 4:102)۔ یہ آیت جارحیت کی دعوت نہیں دیتی؛ یہ بیداری اور تیاری کا حکم دیتی ہے، حتیٰ کہ اُن لمحوں میں بھی جو بظاہر پُرسکون دکھائی دیں۔
سریبرینیکا کو یاد کرنا ماضی کی قید میں رہنا نہیں، بلکہ ہوشیار رہنا ہے۔ حقیقی تحفظ محض دستخطوں یا رسمی اجتماعات میں نہیں، بلکہ تیاری، اتحاد اور اللہ پر غیر متزلزل توکل میں مضمر ہے۔ بین الاقوامی تعاون کی اپنی جگہ ہے؛ سفارت کاری ناگزیر ہے؛ تعمیرِ نو کے اقدامات آگے بڑھنے چاہییں۔ مگر کوئی بھی قوم—خصوصاً وہ جو عالمِ اسلام کی کمزوریوں سے آگاہ ہو—غفلت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
چنانچہ غزہ کے لیے امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کو اسی زاویے سے سمجھنا چاہیے۔ وہ اس میز پر موجود رہنا چاہتا ہے جہاں فیصلے تشکیل پاتے ہیں—محض نتائج کا خاموش وصول کنندہ بن کر نہیں، بلکہ اپنے اصولوں کا فعال محافظ بن کر۔ اسلامی ممالک، جنہوں نے دیکھ لیا کہ امن کی زبان کس طرح ایک بار قتلِ عام کے ساتھ ہم عصر ہو گئی تھی، انسانی ہمدردی کے عنوان تلے خون کی منڈی کو دوبارہ گرم نہیں ہونے دے سکتے۔
تاریخ دائمی بدگمانی کا تقاضا نہیں کرتی، مگر باخبر بیداری کا حکم ضرور دیتی ہے۔ بوسنیا کا سبق نہ تنہائی ہے نہ ہتھیار ڈال دینا؛ بلکہ متوازن قوت ہے۔ جو قوم سریبرینیکا کو یاد رکھتی ہے وہ معاہدوں پر آنکھیں کھلی رکھ کر دستخط کرتی ہے، اپنے دفاع کو برقرار رکھتی ہے، اور اپنی آخری امید نازک ضمانتوں پر نہیں بلکہ ایمان کی رہنمائی میں کی گئی تیاری پر رکھتی ہے۔
