حلیمہ حفیظ
سابق پرائم منسٹر اسٹیٹ یوتھ اسمبلی
اللہ تعالی نے انسان کی مٹی سے ایسی صورت گری کی کہ اسے دیکھنے ،سننے،محسوس کرنے، کھانے ،پینے کے لئے مختلف اعضاء عطا فرمائے، اس مٹی کے مجسمے میں روح پھونکی، عقل و شعور سے نوازا اور پھر اشرف المخلوقات کا لقب دے کر دنیا میں بھیجا۔
آخر کیوں؟
ہم میں سے بہت کم لوگوں نے یہ سوال واقعی سوچا، جنہوں نے سوچا، وہ شاید سمجھ نہ سکے، اور جو سمجھ گئے، وہ امر ہو گئے۔
آئیے آج ہم بھی مل کر سوچیں :
اللہ تعالٰی نے ہمیں دنیا میں ایک واضح مقصد دے کر بھیجا۔ بے شمار خوبیوں سے لبریز انسان کو جنت سے نکال کر زمین پر اتارا تاکہ ہم زمین پر ایک جنت آباد کر سکیں۔
جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا:
از محبت چوں خودی محکم شود قوتش فرماں دہ عالم شود
(محبت سے خودی مضبوط ہوتی ہے، تو اس کی قوت عالم پر فرمانروا ہو جاتی ہے۔)
لیکن بحیثیت انسان ہم سب نے اپنے مقصد سے غداری کی، اپنے مقصد کو بھول کر ہم دنیا کی رعنائیوں میں گم ہو گئے۔ دنیا کی رعنائیوں نے ہمیں اس قدراپناگرویدہ بنالیا کہ ہم اپنا مقصد ہی بھول بیٹھے، جس زمین کو ہم نے جنت بنانا تھا اسکو ہم سب نے مل کر جہنم سے برا مسکن بنا دیا، ہم نے ایک دوسرے کے لئے زمین تنگ کر دی حتکہ ہم انسانیت کے نام پر دھبہ بن گئے۔
جہاں ہم سب انسانیت کا مطلب بھول بیٹھے تھے وہیں روشنی کی ایک کرن بھی موجود ہے۔
ہم جیسے چند انسانوں نے حقیقت میں دنیا میں جنت آباد کرنےکا عزم کر لیا۔
آزادکشمیر کے ضلع میرپور، تحصیل ڈدیال کے ایک گاؤں پچوانہ میں وہاں کے لوگوں نے ایک بڑے درخت کے سائے میں ایک چھوٹی سی جنت آباد کر رکھی ہے۔
یہ جنت دو بڑے اصولوں ” معافی اور مکالمہ” پر قائم ہوئی جو کہ ” پچوانہ کی جنت” اور “مثالی معاشرہ” کے نام سے جانی جاتی ہے۔
یہ جنت دو زریں اصولوں پر قائم ہے: معافی اور مکالمہ۔
جیسا کہ شاعر کہتے ہیں:
خطا معاف ترا عفو بھی ہے مثل سزا
(غلطی معاف کر، تیری معافی سزا کی مانند ہے — یعنی معافی کی قدر سزا سے بھی بڑھ کر ہے۔)
یہاں ہر ماہ کے پہلے ہفتہ کے روز ایک عظیم محفل سجائی جاتی ہے اس محفل میں بزرگ ،مرد و خواتین ،بچے اور باہر سے آئے ہوئے مہمان سب اکٹھے ہوتے ہیں ۔
مکالمہ ہوتا ہے، دل کھول کر باتیں کی جاتی ہیں ، غلطیوں پر معافی مانگی جاتی ہے، معاف کیا جاتا ہے، سب مل کر کھانا بناتے ہیں اور ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتے ہیں۔
یہ محض کوئی روایت نہیں ہے بلکہ انسانیت کی ایک زندہ داستان ہے۔
محبت ،بھائی چارے، برداشت ،رواداری اور حسن سلوک کی بنیاد پر لکھی گئی یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جو اصل میں انسانیت کا حق ادا کر نے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ وہاں کے بڑے ،بچوں کے لئے خون جگر سے ایک تاریخ رقم کر رہے ہیں، ایک مثال قائم کر رہے ہیں، ایک روایت کے طور پر دنیا میں جنت کا تصور چھوڑ رہے ہیں کہ آنے والی نسلیں اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے زمین کو محبت بھرا مسکن بنا سکیں۔
ذرا غور کریں:
ہم اپنی نسلوں کے لئے کیا چھوڑ کے جا رہے ہیں؟
بنگلہ، گاڑی ،بینک بیلینس، زمینیں، اور جائیدادیں بس؟
کیا یہ سب چیزیں آپکے اور ہمارے بچوں کی پرسکون اور خوشیوں بھری زندگی کے لئے کافی ہے؟؟
اگر یہ سب چیزیں کافی ہوں تو پھر اونچے مکانوں کے، کشادہ کمروں میں نرم بستروں پر لیٹا انسان کیوں ڈپریشن اور انزائٹی کا شکار رہتا ہے؟
دنیا کی ہر آسائش میں جیتے انسان کی لاش مہینوں بڑے عالیشان گھر میں کیوں پڑی رہتی ہے؟
آج اولاد کے ہوتے ہوئے والدین اولڈ ہوم میں کیوں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟
اس لئے کہ ہم نے اپنی نسلوں کو انسانیت کا درس دینے کی بجائے دنیاوی نام نہاد آسائشوں کے پیچھے لگا دیا۔
اقبال کہتے ہیں:
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اُخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا
ہمیں سمجھنا ہو گا کہ ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد کیا تھا، ہم جس دوڑ میں لگ چکے ہیں یہ ہماری حقیقت نہیں ہے ہم نے مل جل کے رہنا تھا، برداشت ،امن ،بھائی چارے سے پھر ایک جنت آباد کرنی تھی۔
آئیے !
اب بھی وقت ہے۔
ہم بھی ” پچوانہ کی جنت” جیسا ماڈل اپنا کر اپنے اردگرد چھوٹی چھوٹی جنتیں آباد کریں، تاکہ زندگی اصل معنوں میں خوبصورت ہو سکے، اور جب ہم اس دنیا سے جائیں تو دل اس بات سے مطمئن ہو کہ ہم اپنی نسلوں کے لئے ایک پر امن اور محفوظ معاشرہ چھوڑ کر جا رہے ہیں اور دنیا میں آنے کا مقصد بھی پورا کر چکے ہیں۔
ایک چڑیا کا واقع یاد آتا ہے:
آگ لگی ہوئی تھی۔ چڑیا چونچ میں پانی بھر کر لاتی اور آگ پر ڈالتی، کسی نے کہا : تم تو آگ نہیں بجھا سکتی پھر کیوں تھک رہی ہو۔
چڑیا نے بہت خوبصورت جواب دیا :
کہ جب بروز حشر آگ لگانے والوں اور آگ بجھانے والوں کی فہرست بنے گی تو میرا نام، آگ بجھانے والوں میں ہو گا ،آگ لگانے والوں میں نہیں۔
آئیے! ہم بھی اس خوبصورت سفر کا حصہ بن کر نفسا نفسی کی اس آگ کو بجھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
_ ہمارا پیغام محبت ہے_ *جہاں تک پہنچے
جیسا کہ شاعر کہتے ہیں:
*یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اُخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی
بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر، ملت میں گم ہو جا*
آخر پر میں سلام عقیدت پیش کرنا چاہوں گی پچوانہ کے لوگوں کو جنہوں نے نفسا نفسی کے اس عالم میں مجموعی مفاد کو مدنظر رکھا، اپنے مقصد کو پہچانا، اپنے خون جگر سے وہ دیا جلایا جو جلد پورے عالم میں روشنی کا باعث بنے گا۔ انشاءاللہ
اللہ تعالی ہم سب کو صحیح معنوں میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی توفیق دے۔
آمین۔
