اسلام آباد( آئی پی ایس)الزہرا انٹرنیشنل قرآنک اینڈ ماڈرن سائنسز انسٹی ٹیوٹ کی افتتاحی تقریب نہایت وقار، دینی جذبے اور فکری شعور کے ساتھ کامیابی سے منعقد ہوئی۔ اس تقریب میںصاحبزادہ پروفیسر قاری محمد مشتاق انور،پیر سید محمد ناصر علی شاہ، صاحبزادہ سعید الرشید عباسی، قاری محمد عمیر آصف، ڈاکٹر محمد شیر سیالوی، ڈاکٹر عبدالحمید چشتی، چوہدری محمد یسین، قاری محمد ذیشان حیدر، قاری محمد فاروق الازہری ، پیر سید قاسم شاہ سیالوی، سید ذیشان بخاری، ڈاکٹر اختر علی چشتی نے خطاب کیا و دیگر کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ پروفیسرقاری محمد مشتاق انور نے کہا کہ موجودہ ملکی صورتحال پر سنجیدہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے بالخصوص اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں پیش آنے والے افسوسناک خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس المناک واقعے کو انسانیت، اسلام اور پاکستان کے امن و استحکام کے خلاف کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔آپ نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مؤثر مقابلہ صرف اتحاد، فکری بیداری اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نےامتِ مسلمہ کو درپیش موجودہ عالمی چیلنجز پر بھی تفصیلی تبادلہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور فلسطین کی حالیہ صورتحال پر مظلوم عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا اور عالمی طاقتوں کی جانب سے جاری ظلم و جبر کی شدید مذمت کی۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ امتِ مسلمہ کو فرقہ واریت، داخلی اختلافات اور فکری انتشار سے نکل کر مشترکہ اسلامی اقدار، باہمی احترام اور اتحاد کی راہ اپنانا ہوگی۔
اس موقع پر جاری اعلامیے کے ذریعے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملک میں امن و امان کے قیام، دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں اوروہ عالمی سطح پر مظلوم مسلمانوں، بالخصوص فلسطین کے مسئلے پر واضح، جرات مندانہ اور اصولی موقف اختیار کریں۔
شرکاء نے الزہرا انٹرنیشنل قرآنک اینڈ ماڈرن سائنسز انسٹی ٹیوٹ کے قیام کو دینی، فکری اور اخلاقی تربیت کی سمت ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ قرآنِ کریم کی تعلیمات، اخلاقی اقدار اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا، تاکہ ایک باکردار، باشعور اور متحد اسلامی معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ پاکستان کو امن، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے اور امتِ مسلمہ کو اتحاد، عزت اور نصرت سے ہمکنار فرمائے۔ آمین۔
