بیجنگ : حالیہ برسوں میں، کم لاگت ، ماحول دوستی اور اسمارٹ کارکردگی جیسی خوبیوں کی بدولت نیو انرجی گاڑیاں چین کی صارفی مارکیٹ میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ 2025 ء تک،چین کی مارکیٹ میں نیو انرجی گاڑیوں کا تناسب 12 فیصد تک پہنچ چکا تھا، اور توقع ہے کہ 2026 ء میں یہ تناسب 15 فیصد ہو جائے گا۔ تاہم، طویل فاصلے کے سفر اور دور دراز علاقوں میں چارجنگ سہولت کی دستیابی بہت سے صارفین کے لیے پریشانی کا باعث رہی ہے ۔ لیکن چین میں چارجنگ نیٹ ورک کی مسلسل توسیع اور بہتری کے ساتھ یہ مسئلہ بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے۔
چینی نئے سال سے قبل، ہم نے اپنی نیو انرجی گاڑی کے ذریعے پہلی بار طویل سفر کا تجربہ کیا۔ بیجنگ سے صوبہ جیانگ سو کے ایک چھوٹے قصبے تک کا یہ سفر تقریباً 900 کلومیٹر تھا۔ اس سفر کے بعد ہمارے تمام خدشات دور ہو گئے، کیونکہ ہم نے دیکھا ہےکہ ایکسپریس وے کے تقریباً تمام سروس ایریاز میں چارجنگ سہولیات موجود ہیں، اور نیویگیشن ایپس کے ذریعے ان کا محل وقوع اور استعمال کی صورت حال بروقت دیکھی جا سکتی ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ شہر کے کنارے پر واقع میرے آبائی قصبے میں بھی چارجنگ کی سہولیات کافی زیادہ مقامات پر موجود ہیں۔درحقیقت یہ کوئی انفرادی مثال نہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین نے دنیا کا سب سے بڑا برقی گاڑیوں کا چارجنگ نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔ ایکسپریس وے کے سروس ایریاز میں چارجنگ سہولیات کی کوریج 98 فیصد تک پہنچ چکی ہے؛ جبکہ دیہی علاقوں میں 19 صوبوں نے ” ہر ایک گاؤں تک ” چارجنگ سہولت کی مکمل فراہمی یقینی بنا دی ہے۔
دسمبر 2025ء کے اختتام تک ملک بھر میں برقی گاڑیوں کی چارجنگ سہولیات کی تعداد 20.092 ملین تک پہنچ چکی تھی۔2006ء میں پہلے چارجنگ اسٹیشن کے قیام سے لے کر جون 2019ء میں چارجنگ سہولیات کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچنے میں 13 سال لگے؛ 10 لاکھ سے ایک کروڑ تک پہنچنے میں 5 سال لگے؛ تاہم ایک کروڑ سے دو کروڑ تک کا سفر صرف 18 ماہ میں طے ہوا۔ اس تیز رفتار اضافے کے پس منظر میں چینی طرزِ جدیدیت کا منفرد ادارہ جاتی نظام کارفرما ہے۔ مختلف محکموں کی جانب سے مشترکہ عملی منصوبوں کے اجراء سے لے کر چارجنگ سہولیات، نئی توانائی کے ذخیرے اور ورچوئل پاور پلانٹس جیسے شعبوں میں مربوط پیش رفت تک، چینی طرزِ جدیدیت کی نظامی برتری نے اہم عوامی منصوبوں اور صنعتی پروگراموں کو ہم آہنگ انداز میں آگے بڑھانے کی ضمانت فراہم کی ہے۔چارجنگ سہولیات کی ترقی میں، نہ صرف پیمانے کی توسیع بلکہ کارکردگی کی بہتری پر بھی توجہ دی گئی ہے
۔ چارجنگ نیٹ ورک کی تعمیر میں، نہ صرف شہری چارجنگ نیٹ ورک کی اپ گریڈنگ پر توجہ دی گئی ہے، بلکہ دیہی علاقوں کی ضروریات پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس عمل کے دوران نہ صرف نیو انرجی گاڑیوں کی صنعت کو فروغ ملا بلکہ عوامی نقل و حرکت کو مزید سہولت حاصل ہوئی ہے۔ پیمانے اور معیار، شہر اور دیہات، اور صنعت اور عوامی بہبود کو یکجا کرنے والا یہ ترقیاتی ماڈل، چینی طرزِ جدیدیت کی اعلیٰ معیار کی ترقی کا عملی مظہر ہے۔محکمہ نقل و حمل کے اندازے کے مطابق، چینی نئے سال کے اس سفری رش کے دوران ملک بھر میں 9.5 ارب بین العلاقائی سفری ٹرپس متوقع ہیں۔ ان میں سے، نیو انرجی گاڑیوں سے 38 کروڑ ٹرپس شامل ہوں گے ۔
اس مصروف سفری سیزن کے پیش نظر متعلقہ اداروں نے موبائل ہنگامی چارجنگ آلات کی تنصیب، چارجنگ کے دورانیے کو کم کرنے ، اور ایپس کے ذریعے چارجنگ اسٹیشنوں کی صورت حال کی فوری اطلاع جیسے جامع اقدامات اختیار کیے ہیں، تاکہ نیو انرجی گاڑیوں کے مسافروں کو مزید سہولت فراہم کی جا سکے۔شہروں سے دیہاتوں تک، روزمرہ آمد و رفت سے لے کر تہواروں کے موقع پر آبائی گھر واپسی تک ، چارجنگ نیٹ ورک کی تعمیر اور بہتری نہ صرف چینی طرزِ جدیدیت کے منفرد نظامی برتری کو اجاگر کرتی ہے بلکہ چینی طرزِ جدیدیت کی اعلیٰ معیار کی ترقی کی جیتی جاگتی مثال بھی ہے، اور “عوام پر مرکوز” ترقیاتی فلسفے کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ مزید برآں، دنیا کا یہ سب سے بڑا چارجنگ نیٹ ورک نہ صرف چینی عوام کے لیے سہولت کا باعث ہے بلکہ عالمی سطح پر سبز ترقی کے مستقبل کی بنیاد بھی ڈال رہا ہے۔
