اسلام آباد(آئی پی ایس ) آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے اور صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت 15-16 فروری 2026 کو اوورسیز انویسٹمنٹ کانفرنس کی میزبانی کے لیے پوری طرح تیار ہے، جس کا مقصد خطے میں سرمایہ کاری کی بے پناہ صلاحیت کو اجاگر کرنا ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم پیر کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)میں اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک شاندار تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے کا فروغ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو مضبوط بنانا ان کی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کی وسیع غیر استعمال شدہ صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ خطہ قدرتی وسائل، سیاحت، پن بجلی، معدنیات اور زرعی پیداوار میں منافع بخش مواقع فراہم کرتا ہے۔وزیر اعظم راٹھور نے نشاندہی کی کہ آزاد جموں و کشمیر اسلام آباد سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے، جو اسے سرمایہ کاری کے لیے ایک انتہائی قابل رسائی اور پرکشش مقام بناتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی تاجر برادری بالخصوص اسلام آباد کے تاجروں پر زور دیا کہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری پر سنجیدگی سے غور کریں اور انہیں دستیاب مواقع کا خود مشاہدہ کرنے کے لیے آنے والی اوورسیز انویسٹمنٹ کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی حکومت عوام اور تاجر برادری کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور قوت سے کھڑی ہیں اور قومی اور بین الاقوامی فورمز پر ان کے سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حقوق کی وکالت کرتی رہیں گی۔آزاد جموں و کشمیر کی وسیع اقتصادی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے سردار طاہر محمود نے کہا کہ یہ خطہ سیاحت، ہائیڈرو پاور جنریشن، زراعت، معدنیات، دستکاری اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر دونوں کے عوام اور کاروباری برادریوں کی مشترکہ خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری میں سہولت کاری، تجارتی وفود اور کاروباری روابط کے ذریعے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کے مشیر برائے سرمایہ کاری، فہد یعقوب نے حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالی، جس میں ٹیکس کی چھوٹ اور بجلی کے نسبتا کم نرخ شامل ہیں، اور خطے کی صنعتی اور سیاحتی صلاحیت کو اجاگر کیا۔
آئی سی سی آئی کے فانڈر گروپ کے چیئرمین شیخ طارق صادق نے کہا کہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے درمیان تجارتی اور اقتصادی روابط پہلے سے ہی مضبوط ہیں اور آزاد جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے ہم آہنگی کی کوششوں میں آئی سی سی آئی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔سینٹورس گروپ کے صدر ڈاکٹر راشد الیاس خان نے آزاد جموں و کشمیر میں ایک صنعتی زون کے قیام کی ضرورت پر زور دیا جس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کرنے کے لیے کیرئیر کونسلنگ اور سکل ڈویلپمنٹ پر بھی زور دیا۔صدر آزاد جموں و کشمیر ٹریڈرز ونگ سردار امجد اعظم نے آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے دونوں فریقوں کے لیے اہم قرار دیا۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب جنہوں نے اس تقریب کو متاثر کن انداز میں چلایا، تقریب کو بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار مظلوم کشمیریوں کے نام منسوب کیا۔ اپنے اظہار تشکر میں، آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری نے امید ظاہر کی کہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کا دورہ اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر کی کاروباری برادریوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں سنگ میل کا کام کرے گا۔نمایاں شرکا میں آئی سی سی آئی کے سابق صدور خالد جاوید، محمد اعجاز عباسی، میاں شوکت مسعود اور ظفر بختاوری کے علاوہ ایگزیکٹو ممبران محترمہ فاطمہ عظیم، محترمہ شمائلہ صدیقی، عمران منہاس، راجہ نوید ستی، ذوالقرنین عباسی، ملک عبدالعزیز، اسحاق سیال ، ناصر محمود چوہدری مرزا محمد علی اور دیگر شامل تھے۔ مارکیٹوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے بھی تقریب شرکت کی ۔
