Friday, February 6, 2026
ہومبریکنگ نیوزسینیٹ اجلاس میں کشمیر، بلوچستان، سیکیورٹی صورتحال اور عمران خان پر بحث

سینیٹ اجلاس میں کشمیر، بلوچستان، سیکیورٹی صورتحال اور عمران خان پر بحث

اسلام آباد (آئی پی ایس )سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ افسر سلیم مانڈی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کشمیر، بلوچستان، سیکیورٹی صورت حال اور بانی پی ٹی آئی سے متعلق بحث ہوئی۔وزیر مملکت مختار برتھ نے کہا کہ زراعت اب صوبائی معاملہ بن چکا ہے، تاہم وفاقی حکومت بہتر بیجوں کی پیداوار پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ 2 سے 3 سال میں گندم سمیت مختلف اجناس کے بہتر پیداوار والے بیج تیار کر لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت میں پانی کے کم استعمال کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے۔

وزیر مملکت کے مطابق پاکستان چاول کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا نواں بڑا ملک ہے جب کہ پنجاب میں زرعی اراضی کے تحفظ کے لیے گرین ایریاز کی نشاندہی کرکے انہیں لاک کر دیا گیا ہے اور ان علاقوں میں کوئی رہائشی کالونی نہیں بن سکتی۔اجلاس کے دوران اپوزیشن بینچز خالی رہے جب کہ اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کی ایوان میں عدم موجودگی بھی نوٹ کی گئی۔ بعد ازاں وہ ایوان میں آگئے ۔ایوان میں پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے اضافی فیسوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

سینیٹر روبینہ قائم خانی نے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز معیارات پر پورا نہیں اترے اور 25 سے 30 لاکھ روپے فیس وصول کر رہے ہیں جب کہ آغا خان میڈیکل کالج لگ بھگ ایک کروڑ روپے فیس لے رہا ہے۔سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ہر میڈیکل کالج بچوں کو لوٹ رہا ہے۔ وزیر مملکت صحت نے بتایا کہ پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز کی فیس کا بینچ مارک 18 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ بعد ازاں پریزائیڈنگ افسر نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا۔سینیٹ نے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد وفاقی وزیر برائے امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے پیش کی۔ قرارداد کے متن کے مطابق ایوان بھارت کے غیر قانونی قبضے کی مذمت کرتا ہے،

کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے اور ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ایوان میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افراد کے گزشتہ 5 برس میں بیرون ملک روزگار کے لیے جانے کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔ وزارت سمندر پار پاکستانیز نے تحریری جواب ایوان میں جمع کرایا جس کے مطابق گزشتہ 5 سالوں میں بلوچستان سے 29 ہزار 813 افراد بیرون ملک گئے۔دستاویزات کے مطابق 12 ہزار 770 افراد سعودی عرب، 8 ہزار 141 یو اے ای، 3 ہزار 806 قطر اور 3 ہزار 225 عمان گئے جبکہ دیگر افراد بحرین، جاپان، چین، برطانیہ، آسٹریلیا، ملائیشیا، نیوزی لینڈ، امریکا اور اٹلی بھی گئے۔ایوان میں قواعد ضابطہ کار و انصرام کارروائی سینیٹ 2012 کے قاعدہ 166 کے ذیلی قاعدہ 5 میں مجوزہ ترمیم کی قرارداد پیش کی گئی۔

یہ قرارداد سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر سلیم مانڈی والا، سینیٹر انوشہ رحمان، سینیٹر پلوشہ اور دیگر کی جانب سے پیش کی گئی۔اس موقع پر حکومت نے ترمیم کی مخالفت کی جب کہ رانا ثنا اللہ نے بل پر کارروائی روکنے اور ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ پریزائیڈنگ افسر سلیم مانڈی والا نے کہا کہ بل پہلے ہی مہینوں سے تاخیر کا شکار ہے۔ بعد ازاں انہوں نے بل پر رائے شماری کرائی اور ایوان نے اکثریتی رائے سے بل منظور کر لیا۔توجہ دلا نوٹس پر سینیٹر اسد قاسم نے کہا کہ حب چوکی پر رینجرز ناکوں پر روزانہ طویل قطاروں کے باعث سندھ اور بلوچستان کے لوگ پریشانی کا شکار ہیں اور چیک پوسٹوں پر گھنٹوں روکا جاتا ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سرحدوں پر چیک پوسٹیں سیکیورٹی کے لیے ضروری ہیں اور قانون کے مطابق رینجرز، کسٹمز اور دیگر اداروں کی چیک پوسٹیں موجود ہیں۔ سینیٹر عبدالقادر نے سرحدوں پر کرپشن کی نشاندہی کرتے ہوئے کیمرے لگانے کا مطالبہ کیا جب کہ سینیٹر جان محمد بلیدی نے مختلف چیک پوسٹوں پر گھنٹوں کی تاخیر کا ذکر کیا۔طلال چوہدری نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ چیک پوسٹیں ضروری ہیں ، تاہم سینیٹرز کی تجاویز سندھ حکومت کے سامنے رکھی جائیں گی۔اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک انسان اور قیدی ہیں جنہیں قانونی حقوق اور علاج کی سہولیات نہیں دی جا رہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا 4 رکنی وفد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرے جس میں 2 حکومتی اور 2 اپوزیشن اراکین شامل ہوں۔سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ مسائل ہیں ۔ ملک میں عدل کا نظام ختم ہوچکا ہے۔ اس موقع پر رانا ثنا اللہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق سہولیات دی جا رہی ہیں ۔ بہتر انداز میں بات آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔سینیٹر کامران مرتضی نے بلوچستان میں ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب میں بسنت منانے پر تنقید کی۔ جس پر طلال چوہدری نے جواب دیا کہ دہشتگرد یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں معمول کی زندگی نہ ہو ۔

پنجابی اپنے وطن سے زیادہ بلوچستان سے محبت کرتے ہیں۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بسنت ایک تہوار ہے جس کا اعلان پہلے سے کیا گیا تھا اور اسے جشن کہنا نامناسب ہے۔ سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ بسنت اسلام سے پہلے بھی منائی جاتی تھی۔ انہوں نے پنجابی زبان کے فروغ کے لیے مریم نواز کے بیان کو خوش آئند قرار دیا۔سینیٹر ایمل ولی خان نے دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ ایوان میں مولانا عبدالواسع نے بلوچستان میں بلوچ اور پختون اتحاد پر زور دیا۔بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔