قازقستان کے صدر عزت مآب قاسم جومارت توکایف، جنہوں نے حال ہی میں اسلام آباد کا دورہ مکمل کیا، نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کو ایک دوست ملک اور اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے جس نے عالمی برادری میں احترام حاصل کیا ہے۔
ابتدا ہی سے قاسم جومارت توکایف ایک تجربہ کار مدبرِ سیاست دان کی سی متانت اور اس اعتماد کے ساتھ نظر آئے جو ایک جدید ریاست کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر چکا ہو۔ انہیں جدید قازقستان کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ ’’سننے والی ریاست‘‘ (Listening State) کے تصور کے حوالے سے خاص طور پر جانے جاتے ہیں، جو عوام کی آواز سننے اور ان کے مسائل کو مواقع، اصلاحات اور عملی حل میں ڈھالنے پر مبنی حکمرانی کا فلسفہ ہے۔
وسطی ایشیائی ریاستوں میں قازقستان ایک بااثر اور تزویراتی طور پر اہم ملک کے طور پر نمایاں ہے۔ اس کے صدر ایک نایاب کثیر لسانی شخصیت ہیں، جو چینی، روسی، انگریزی، فرانسیسی اور دیگر کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، جو ان کے طویل سفارتی کیریئر اور عالمی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ گفتگو کے آغاز میں ہی صدر توکایف نے دی نیوز انٹرنیشنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم شہباز شریف سے اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کی تعریف کی اور بات چیت کے لیے گرمجوشی اور باہمی احترام کا ماحول قائم کیا۔
پاکستان اور قازقستان کے تعلقات، خصوصاً تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کے حوالے سے توقعات، حقائق اور امکانات سے متعلق سوال کے جواب میں صدر توکایف نے کہا کہ قازقستان پاکستان کو ایک دوست ملک اور اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے جس نے عالمی برادری میں احترام حاصل کیا ہے۔ 1992 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے متعدد امور اور منصوبوں پر مل کر کام کیا ہے۔ ہم شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور کانفرنس آن انٹریکشن اینڈ کانفیڈنس بلڈنگ میژرز ان ایشیا (CICA) سمیت اہم بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ قریبی اور مؤثر تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، جو عالمی امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ میں کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ان کا پہلا سرکاری دورہ ہمارے شراکت دارانہ تعلقات کو وسعت دینے اور دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا باب کھولنے کے لیے تھا۔ اس دورے کے دوران حکومتوں اور کاروباری اداروں کے درمیان 60 سے زائد دوطرفہ دستاویزات پر دستخط کیے گئے، جن سے باہمی تعاون کو مضبوط تقویت ملی۔ اقتصادی تعاون کے ترجیحی شعبوں میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، زراعت، صنعت و مینوفیکچرنگ، صحت، تعلیم اور دیگر کئی شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے لیے مشترکہ منصوبے قائم کرنے اور باہمی مفاد کے منصوبوں پر عمل درآمد کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعاون کی بنیادی سمت کے بارے میں صدر توکایف نے کہا کہ اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط ہماری شراکت داری کا مرکزی ستون ہیں۔ ہم سیاسی خیرسگالی کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، خاص طور پر تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے ذریعے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ رابطہ سازی (کنیکٹیویٹی) مشترکہ ایجنڈے کا ایک اہم پہلو بن چکی ہے اور قازقستان کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے، تو انہوں نے کہا کہ واقعی کنیکٹیویٹی ہمارے مشترکہ ایجنڈے کا ایک سرفہرست مسئلہ بن چکی ہے۔ اس تناظر میں قازقستان، قازقستان–ترکمانستان–افغانستان–پاکستان راہداری کی ترقی میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے، جسے ہم علاقائی روابط اور جنوبی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے تزویراتی طور پر نہایت اہم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان نے بھی اس اہم منصوبے پر قریبی تعاون کے لیے مثبت رویہ اپنایا ہے۔ ان کے مطابق ہم تمام شراکت داروں کی فعال اور مربوط شرکت کے منتظر ہیں تاکہ ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں پر کامیاب عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
امریکا میں ہونے والی حالیہ سیاسی پیش رفت اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی داخلی پالیسیوں کے بارے میں سوال پر صدر توکایف نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایک مضبوط اور مستقبل بین رہنما ہیں جو اپنے ملک کے قومی مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بات امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور بالخصوص سماجی شعبے میں جاری انقلابی اصلاحات سے واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی عام فہم پالیسیوں اور قانون کی بالادستی کی بحالی پر زور کے حامی ہیں۔ اسی طرح قازقستان میں بھی ہم قانون و نظم کی سخت پالیسی پر عمل پیرا ہیں تاکہ موجودہ پیچیدہ عالمی ماحول میں ملک کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق تمام شہریوں کو قانون کی پاسداری کرنی چاہیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احترام کرنا چاہیے۔
ابراہیمی معاہدوں (Abraham Accords) میں شمولیت کے بارے میں سوال کے جواب میں صدر توکایف نے کہا کہ قازقستان ہمیشہ امن، استحکام اور بین الاقوامی مکالمے کے اصولوں پر ثابت قدم رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے شروع کیے گئے ابراہیمی معاہدے ایک دور اندیش اقدام ہیں۔ اس فریم ورک میں شمولیت کے ذریعے ہم سفارت کاری پر اپنے یقین کا اعادہ کرتے ہیں جو اختلافات کے حل اور طویل المدتی علاقائی و عالمی استحکام کے فروغ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ قازقستان کے اسرائیل کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، جبکہ وہ فلسطینی عوام کی مستقل حمایت اور دو ریاستی حل کی وکالت بھی کرتا ہے۔ قومی مفادات کے نقطۂ نظر سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور ٹھوس اقتصادی فوائد کے حصول کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قازقستان کی شمولیت عرب–یہودی قربت کو وسیع تر مسلم–یہودی مکالمے میں تبدیل کرنے میں مدد دے گی۔
داؤس میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ بورڈ آف پیس کے قیام کے معاہدے پر دستخط سے متعلق سوال پر، جسے بعض حلقے اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں، صدر توکایف نے کہا کہ بورڈ آف پیس ایک بروقت اور موزوں اقدام ہے جس کا مقصد تیز اور مؤثر نتائج حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے خود اس بات پر زور دیا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی کوششوں کا متبادل نہیں بلکہ ان کی تکمیل کے لیے ہے، کیونکہ اس وقت اقوام متحدہ ادارہ جاتی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل درآمد بھی کرتا ہے اور انہیں یقین ہے کہ بورڈ آف پیس تنازعات کے حل کے لیے لچکدار اور عملی طریقہ کار کے ذریعے عالمی امن و استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
غزہ کے لیے دیرپا اور پائیدار امن منصوبے کے مستقبل سے متعلق سوال پر صدر توکایف نے کہا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی جانب سے پیش کیا گیا منصوبہ منظم، بلند حوصلہ مگر حقیقت پسندانہ نظر آتا ہے اور بعض پہلوؤں میں یہ ترقی پر مبنی منصوبے سے مشابہ ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ دو ریاستی حل کی جانب حقیقی سیاسی عزم کے بغیر کوئی بھی منصوبہ پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہی تشدد اور عدم استحکام کے بار بار آنے والے چکر کو توڑنے کا واحد قابلِ عمل فریم ورک ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے ممکنہ ثالثی کے سوال پر صدر توکایف نے کہا کہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور بنیادی مسئلہ علاقائی نوعیت کا ہے۔ قازقستان ہمیشہ اس تنازع کے سیاسی اور سفارتی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اگرچہ قازقستان ثالثی کا خواہاں نہیں، تاہم اگر موقع ملا تو ہم مذاکرات کے لیے غیر جانبدار پلیٹ فارم فراہم کرنے سمیت اپنی نیک خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
گرین لینڈ کے حوالے سے ممکنہ فوجی قبضے کے سوال پر صدر توکایف نے کہا کہ وہ اس سوال کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ بین الاقوامی عمل میں ایسے کئی معاملات موجود ہیں جہاں ممالک مخصوص علاقوں یا تزویراتی تنصیبات کے لیے طویل المدتی لیز معاہدے کرتے ہیں، جو باہمی مفاد کے لیے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے کسی بھی فیصلے کو بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت ہی دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے ایک عملی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ڈنمارک گرین لینڈ کے لیے 120 سالہ لیز معاہدے پر غور کر سکتے ہیں، جس کے تحت گرین لینڈ قانونی طور پر ڈنمارک کا حصہ رہے گا اور اس کی خودمختاری متاثر نہیں ہو گی، جبکہ عملی انتظامات مشترکہ تزویراتی مفادات کو پورا کر سکیں گے۔ ان کے مطابق مکالمے اور ذمہ دار ریاستی طرزِ عمل کے ذریعے فریقین کسی قابلِ قبول اور عملی حل تک پہنچ سکتے ہیں۔
قازقستان میں زیر غور آئینی ترامیم کے بارے میں صدر توکایف نے کہا کہ ملک اپنی تاریخ کے ایک اہم ترین سیاسی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے تاکہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک منصفانہ انداز میں پہنچ سکیں۔ قازقستان نے ایک سپر صدارتی نظام سے نکل کر مضبوط اختیاراتی توازن پر مبنی صدارتی جمہوریہ کی طرف پیش رفت کی ہے، جس میں مضبوط صدر، بااثر پارلیمنٹ اور جواب دہ حکومت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم سیاسی جدید کاری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جس میں یک ایوانی پارلیمنٹ، نیشنل کونسل کا قیام اور نائب صدر کے عہدے کا تعارف شامل ہے۔ انسانی حقوق اور آزادیوں کو ریاست کی اعلیٰ ترین ترجیح قرار دیا گیا ہے، جبکہ قومی اتحاد، بین النسلی ہم آہنگی اور بین المذاہب بقائے باہمی ہماری ریاست کی بنیاد ہیں۔
مستقبل کے لیے قازقستان کے ترقیاتی راستے پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر توکایف نے کہا کہ ہم ایک منصفانہ، محفوظ، صاف اور ترقی پسند قازقستان کی تعمیر چاہتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی اور سماجی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج قازقستان وسطی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، جس کا جی ڈی پی 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور فی کس آمدنی تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سرمایہ کاری پالیسی ایک مستحکم، شفاف اور قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول کے قیام پر مرکوز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم قازقستان کو ایک مکمل ڈیجیٹل ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ ہم قازقستان کو یوریشیا کا ایک اہم ٹرانزٹ حب بنانے اور توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر جدید کاری کے منصوبوں پر بھی عمل کر رہے ہیں، جن میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ قریبی شراکت داری شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام اقدامات ہمارے منتخب ترقیاتی راستے کی عکاسی کرتے ہیں: ایک متنوع، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی سطح پر مسابقتی معیشت، جس کا مقصد عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
