اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان اور ازبکستان نے دو طرفہ تجارت کا حجم پانچ سال میں دو ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے ایکشن پلان مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دوطرفہ تجارت میں اضافے کا پروٹوکول معاشی تعاون کے لیے اہم سنگ میل ہے،پانچ سالہ پلان کے تحت تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں گی،علاقائی روابط کے فروغ کے حوالے سے مکمل تعاون کے لیے پرعزم ہیں آئی ٹی،زراعت، ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع سے استفادہ کریں گے، قریبی روابط کے ذریعے تعاون کو عملی شکل دیتے ہوئے آگے بڑھنا ہے، غزہ امن بورڈ غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے اہم فورم ہے، پرامید ہیں کہ غزہ میں امن لوٹے گا اور مسئلہ حل ہوگا، کشمیر اور فلسطین کے مسائل کا حل دیر پا امن کے لیے ضروری ہے، جبکہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے کہاہے کہ پاکستان ازبکستان کا قریبی دوست اور باعتماد شرکت دار ہے ،تجارت،معیشت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر بات چیت ہوئی ہے،عالمی اور علاقائی امور پر مل کر آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں، مستقبل میں بھی قریبی روابط یقینی بنائیں گے۔
جمعرات کو یہاں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخطوں کی تقریب کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ازبکستان کے صدر اور ان کے وفد کو اسلام آباد میں اپنے دوسرے گھر آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، ان کے دورے پر بہت خوشی ہے،نہ صرف ازبکستان کے بہنوں اور بھائیوں بلکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے شاندار کاوشوں پر نسٹ اسلام آباد کی طرف سے ازبکستان کے صدر کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ دی گئی ہے، پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو فروغ دینے اور تجارتی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے اپ کی خدمات پر پاکستان کا اعلی ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان ملنے پر بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔نشان پاکستان کا اعزاز دونوں ممالک کے قریبی برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔گزشتہ سال فروری میں ازبکستان کے دورے کے دوران شاندار میزبانی اور استقبال آج بھی ذہن میں تازہ ہے،پاکستان اور ازبکستان کے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں،جو سلک روٹ سے جڑے ہوئے ہیں اور سمرقند اور بخارا کے ساتھ ایک گہرا تعلق اسی سلسلے کی کڑی ہے،یہ تاریخی حقائق ہمارے قریبی تعلقات اور شاندار مستقبل کے عکاس ہیں، دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے مہمان صدر کے کردار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اورازبکستان کے تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوئے ہیں ،ہم نے اعلی سطحی تزویراتی تعاون کونسل کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی ہے ، علاقائی روابط کے فروغ کے حوالے سے مکمل تعاون کے لیے پرعزم ہیں،ہم مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں گے ،زراعت فارماسیوٹیکل، لیدر، لیدر شوز، سیاحت، آئی ٹی،ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا ، ہم نے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا ہے،دوطرف تجارت میں اضافے کا پروٹوکول انتہائی اہم سنگ میل ہے یہ یقینی طور پر ایک گیم چینجر ہوگا، ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے سہ ماہی بنیاد پر اجلاس ہوگا،پانچ سالہ پلان کے تحت تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں گی، قریبی روابط کے ذریعے تعاون کو عملی شکل دیتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔بابر پارک کے تحفے پر پاکستان کے عوام اور حکومت کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ ازبکستان بھی پاکستان کے ساتھ غزہ امن بورڈ کا رکن ہیغزہ میں امن کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے یہ ایک اہم فورم ہے ۔ پر امید ہیں کہ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں غزہ میں پائیدار امن اور تعمیر نو کے لئے کامیاب ہوں گے اور دو ریاستی حل تک پہنچا جائے گاہم نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں امن اور ترقی کے لیے کام کریں گے۔کشمیر اور فلسطین کے مسائل کا حل دیر پا امن کے لیے ضروری ہے۔ ازبکستان کے صدر نیخیر مقدمی کلمات پر کھڑے ہو کر وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اظہار تشکر کیا۔ ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے کہا کہ بھرپور استقبال اور شاندار میزبانی پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا مشکور ہوں ، انسانی زندگی میں بعض دن انتہائی تاریخی ہوتے ہیں ،آج کا دن میرے لیے بہت یادگار ہے،ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور پروفیسر شپ ملا میرے لیے اعزاز ہے، جس طرح سے میری اور میرے وفد کی شاندار میزبانی ہوئی اس کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا،میں نے ہدایت کی ہے کہ ازبکستان کی مائننگ یونیورسٹی میں نسٹ کی چیئر قائم کی جائے،اعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ اعزاز کے ساتھ ساتھ میرے لیے ایک ذمہ داری بھی ہے، ازبکستان کی مائننگ یونیورسٹی میں نسٹ چیئر قائم کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون سے منازل طے کریں گے،تعلیمی شعبے میں اساتذہ اور طلبا کا بھی تبادلہ کیا جائے گا،پاکستان کا اعلی ترین اعزاز نشان پاکستان دئیے جانے پر شکر گزار ہوں، یہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دوستی اور قریبی برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے،نشان پاکستان کا اعزاز میرے لیے قابل فخر لمحہ ہے،، تجارت ،معیشت سیکورٹی، دفاع، سرمایہ کاری سمیت تمام شعبوں میں روابط کو فروغ دینے پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے ،مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا،مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوئوں کو تفصیلی جائزہ لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے،تعمیری بات چیت کے نتیجے میں ہم نے تجارتی حجم میں اضافے کے پروٹوکول پر دستخط کییہیں ،پاکستان ہمارا قریبی دوست اور با اعتماد شراکت دار ہے،وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاشی استحکام اور ترقی کے لیے کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین سمیت مختلف معاملات پر ازبکستان اور پاکستان مل کر آگے بڑھیں گے ،ہم متحد ہو کر اگے بڑھیں تو تمام مشکلات اور مسائل پر قابو پا سکتے ہیں، اپنے اجداد کے نام پر اسلام آباد میں بابر پارک کے قیام کی تجویز سے اتفاق کرنے پر شکر گزار ہوں،بابر پارک ہماری قریبی دوستی اور مضبوط برادرانہ تعلقات کا عکاس ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اور علاقائی امور پر مل کر آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں ،مستقبل میں بھی قریبی روابط یقینی بنائیں گے۔پاکستان کے عوام کو رمضان المبارک کی پیشگی مبارک باد دیتا ہوں۔قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے دو طرفہ تجارت کا حجم اگلے پانچ سال میں دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے پروٹوکول اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایکشن پلان مرتب کرنے کے لئے ورکنگ گروپ قائم کرنے کی دستاویز پر دستخط کیے۔ ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)نے ازبکستان کے صدر کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ دینے کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے شوکت مرزائیوف کواعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ کا سرٹیفکیٹ عطا کیا۔
