Thursday, February 5, 2026
ہومپاکستانوفاقی محتسب نے کنوارے ہونے کی بنیاد پر رہائشی سہولت سے محروم کرنا غیرقانونی قراردیدیا

وفاقی محتسب نے کنوارے ہونے کی بنیاد پر رہائشی سہولت سے محروم کرنا غیرقانونی قراردیدیا

اسلام آباد(آئی پی ایس )خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ دینے والی وفاقی محتسب (فوسپاہ)نے کنوارے مردوں اور خواتین کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے سے متعلق تمام قوانین کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے دیا۔وفاقی محتسب نے پاکستان کے کرایہ داری قوانین سے متعلق تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیچلرز مردوں اور خواتین کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی کسی بھی قسم کی پالیسی یا روایت غیرقانونی، امتیازی سلوک پر مبنی اور ابتدا ہی سے کالعدم ہے۔

یہ فیصلہ اسلام آباد میں واقع ایک نجی رہائشی عمارت کی انتظامیہ کے خلاف ثنا ہمایوں خان نامی خاتون کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا ہے۔درخواست گزار نے شکایت میں الزام عائد کیا تھا رہائشی عمارت کی انتظامیہ نے انہیں مسلسل ہراساں کیا، دبا ڈالا اور امتیازی رویہ اختیار کیا۔اپنی بہن کے ساتھ پرامن طور پر رہائش اور کرایہ داری کی تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود انہیں بار بار اس بنیاد پر نشانہ بنایا گیا کہ یہاں کنوارے نہیں رہ سکتے۔فوسپاہ نے اس الزام کا بھی سنجیدگی سے نوٹس لیا کہ زبردستی انخلا پر مجبور کرنے کے لیے بجلی اور پانی منقطع کیا گیا اور بغیر کسی قانونی اختیار کے صنفی تعصبات پر مبنی غیر تحریری پالیسیوں کا نفاذ کیا گیا۔ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانیوں کے بعد انفرادی شکایت کا معاملہ حل ہو گیا، تاہم فوسپاہ نے پاکستان میں کام کرنے والی خواتین اور غیر شادی شدہ پیشہ ور افراد کو درپیش منظم امتیازی سلوک پر توجہ دینا ضروری سمجھا۔فوسپاہ نے کہا کہ ازدواجی حیثیت یا جنس کی بنیاد پر کنوارا ہونا رہائش سے انکار کی کوئی قانونی وجہ نہیں بن سکتی۔وفاقی محتسب نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے طریقہ کار مساوات، انسانی وقار اور رہائش کی آزادی جیسے بنیادی آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔فوسپاہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نقل و حرکت کوئی مراعات نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے، جن کے روزگار کے مواقع عموما بڑے شہروں تک محدود ہوتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔