لاہور میں واقع تاریخی سر گنگا رام ریزیڈنس میں منعقد ہونے والے کیلیڈونین بال میں اسکاٹ لینڈ اور پاکستان کے مابین گہرے ثقافتی روابط کو اجاگر کیا گیا۔ بدھ کے روز ہونے والی اس تقریب میں روایتی بیگ پائپ موسیقی، اسکاٹش اور مقامی فنکاروں کے اشتراک سے تیار کردہ ‘وین ماؤنٹنز میٹ’ کے گیت، اور معروف ڈیزائنر ایچ ایس وائی کی ہیرس ٹویڈ کے ساتھ سابقہ کاوشوں پر مبنی اعلیٰ درجے کی فیشن پیشکش شامل تھی۔
یہ تقریب لاہور اور گلاسگو کے درمیان طے پانے والے ٹوئننگ معاہدے کی آئندہ بیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی۔ دونوں شہروں کے درمیان روابط میں بچوں کے اسپتالوں کے مابین شراکت داری اور پنجاب میں ریسکیو 1122 کے قیام کے دوران فراہم کی گئی معاونت شامل ہے۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی سینئر وزیر، حکومتِ پنجاب مریم اورنگزیب تھیں۔ ان کے ہمراہ سیاست دانوں، سرکاری حکام، سینئر کاروباری شخصیات، میڈیا نمائندگان اور ثقافتی رہنماؤں نے شرکت کی۔ 2026 کے دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کھیلوں میں گلاسگو میں شرکت کرنے والے پاکستانی ایتھلیٹس بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یہ تقریب مرکزی اسپانسرز گیری گروپ، اٹلس گروپ اور ابیکس کی معاونت سے منعقد کی گئی۔
برطانوی ہائی کمشنر برائے پاکستان، جین میریئٹ CMG OBE نے کہا:
“اسکاٹ لینڈ کا ورثہ اور تخلیقی صلاحیتیں برطانیہ کی شناخت میں گہرائی سے پیوست ہیں، مگر پاکستان میں یہ خاص طور پر زندہ محسوس ہوتی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی روایات کو پاکستان کی امیر اور فراخدل ثقافت کے ساتھ اس قدر قدرتی ہم آہنگی میں دیکھنا دل کو چھو لینے والا ہے۔ کیلیڈونین بال ہماری کہانیوں، فنون اور لوگوں کو گرمجوشی اور خلوص کے ساتھ مناتا ہے۔”
برطانوی ہائی کمیشن لاہور آفس کے سربراہ، بین ویرنگٹن نے کہا:
“سیالکوٹ کا اسکاٹ لینڈ کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ بیگ پائپس تیار کرنا، یا ایک پاکستانی اسکاٹش شیف کا چکن تکہ مسالہ تخلیق کرنا—جو اب برطانیہ کے مقبول ترین کھانوں میں شامل ہے—یہ سب اس بات کی مثالیں ہیں کہ ہماری متحرک ثقافتیں کس طرح ایک دوسرے کو تشکیل دیتی ہیں۔ تاہم یہ روابط تجارت، تعلیم اور ترقی جیسے وسیع شعبوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔”
اسکاٹ لینڈ اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے ثقافتی تعلقات قائم ہیں، جن میں سیالکوٹ کی بیگ پائپس کی عالمی شہرت اور “اسپرٹ آف پاکستان” ٹارٹن کا اسکاٹ لینڈ کے سرکاری رجسٹر میں اندراج شامل ہے۔ رابرٹ گورڈن یونیورسٹی (RGU)، جو گریجویٹ ملازمت اور طلبہ کے تجربے کے حوالے سے اسکاٹ لینڈ کے ممتاز اداروں میں شمار ہوتی ہے، پاکستان میں نئے معاہدوں اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے ذریعے اپنی ٹرانس نیشنل ایجوکیشن شراکت داری کو وسعت دے رہی ہے۔
2013 سے اسکاٹش حکومت کے تعاون سے جاری اسکالرشپ پروگرام کے تحت 25 ہزار سے زائد پاکستانی نوجوان خواتین اور بچیوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں پاکستانی طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2014 میں 500 سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 5,500 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ طلبہ 14 جامعات میں زیرِ تعلیم ہیں، جن میں گلاسگو کیلیڈونین، یو ڈبلیو ایس، اسٹرلنگ، ایڈنبرا نیپیئر اور ہیریٹ واٹ یونیورسٹی شامل ہیں۔
