Thursday, February 5, 2026
ہومپاکستانکَیس لاہور میں مصنوعی ذہانت کے بچوں اور نوجوانوں پر اثرات پر اہم راؤنڈ ٹیبل مباحثہ

کَیس لاہور میں مصنوعی ذہانت کے بچوں اور نوجوانوں پر اثرات پر اہم راؤنڈ ٹیبل مباحثہ

سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کَیس)، لاہور نے “الگورتھمز کے ساتھ پرورش: مصنوعی ذہانت کس طرح بچپن اور نوجوانی کو ازسرِنو تشکیل دے رہی ہے” کے عنوان سے ایک راؤنڈ ٹیبل مباحثے کا انعقاد کیا۔ ایک خودمختار تھنک ٹینک کے طور پر کَیس لاہور ٹیکنالوجی، معاشرے اور پالیسی کے باہمی تعلق کے تناظر میں اہم اور ابھرتے ہوئے مسائل پر علمی اور فکری مکالمے کے انعقاد کا اہتمام کرتا ہے۔ اس تقریب میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔ افتتاحی خطاب کَیس کی ریسرچ اسسٹنٹ، محترمہ فائزہ عابد نے کیا۔

پہلے سیشن میں یونیورسٹی آف لاہور کے ڈین آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈاکٹر ابرار حسین نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ الگورتھمک نظام کس طرح بچوں کی تعلیم، کھیل اور سماجی روابط کو متاثر اور تشکیل دے رہے ہیں۔ انہوں نے ایڈاپٹو کلاس رومز، اسمارٹ کھلونوں، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کھیلوں اور سماجی سیمولیشنز کا ذکر کیا جو کھیل اور تعلیم کو یکجا کرتے ہوئے اسکول اور گھر کے درمیان ایک مربوط کھیل سیکھنے کا ماحول تشکیل دیتے ہیں۔ ڈاکٹر ابرار حسین نے ڈیٹا کی رازداری، ذہنی نشوونما، بنیادی مہارتوں کے زوال، حد سے زیادہ انحصار اور نگرانی جیسے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کی نفسیاتی اور سماجی بہبود کے تحفظ کے لیے محفوظ اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔

دوسرے سیشن میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کی پروفیسر آف نفسیات، ڈاکٹر شازیہ حسن نے اس بات کا تجزیہ پیش کیا کہ الگورتھمک ماحول کس طرح انسانی ذہن، شناخت اور فرد کی خودمختاری کو نئی شکل دے رہا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت علمی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، تاہم یہ خود احتسابی، خود آگاہی اور تنقیدی فیصلے کی صلاحیت کو محدود بھی کر سکتی ہے۔ نوجوانوں کے تناظر میں انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت پر حد سے زیادہ انحصار خودمختاری، جذباتی وابستگی اور تنقیدی سوچ کو کمزور کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر شازیہ حسن نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ایجنسی کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت کے نتائج کو تنقیدی انداز میں سمجھنا، انہیں اخلاقی، سماجی اور ثقافتی تناظر میں رکھنا، اور آزادانہ سوچ اور خود آگاہی کے لیے مناسب گنجائش فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

اختتامی کلمات میں ایئر مارشل (ر) عاصم سلیمان، صدر، کَیس لاہور نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب روزمرہ زندگی کا ایک مرکزی اور ناگزیر جزو بن چکی ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، کھیلوں اور سوشل میڈیا میں شامل مصنوعی ذہانت کے نظام نہایت باریک انداز میں انسانی رویّوں، توجہ، جذبات، سماجی روابط اور شناخت کو متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ تخلیقی صلاحیت، ذاتی نوعیت کی تعلیم اور مسائل کے حل کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں خود انحصاری، لچک اور نجی زندگی کو درپیش خطرات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خاندانوں، اساتذہ اور پالیسی سازوں کو تحقیق، مؤثر پالیسی سازی اور انسانی مرکزیت پر مبنی تعاون کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کی رہنمائی کرنی چاہیے تاکہ صحت مند نشوونما، تنقیدی سوچ اور ذمہ دارانہ فیصلہ سازی کو فروغ دیا جا سکے۔

راؤنڈ ٹیبل مباحثے کا اختتام ایک بھرپور اور متحرک سوال و جواب کے سیشن پر ہوا، جس میں نوجوانوں، تعلیم اور انسانی ترقی پر مصنوعی ذہانت کے گہرے اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ شرکا نے کَیس لاہور کی جانب سے اس بروقت، سنجیدہ اور فکری طور پر بامعنی مکالمے کے انعقاد کو سراہا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔