Thursday, February 5, 2026
ہومبریکنگ نیوزسندھ وژن 2030 کے حصول میں تعاون قابل ستائش ہے، وزیراعلی کی صدر عالمی بینک کی گفتگو

سندھ وژن 2030 کے حصول میں تعاون قابل ستائش ہے، وزیراعلی کی صدر عالمی بینک کی گفتگو

کراچی (آئی پی ایس )سندھ کے وزیراعلی مراد علی شاہ نے عالمی بینک کے صدر اجے بانگا سے ملاقات کے دوران کہا کہ سندھ وژن 2030 کے حصول میں ورلڈ بینک کا تعاون قابل ستائش ہے اور اس دوران پاکستان کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک 2026 تا 2035 سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بانگا کے درمیان ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس کا مقصد تھا کہ سندھ کی ترقیاتی ترجیحات کو ورلڈ بینک کی روزگار کو اولین ترجیح دینے والی عالمی حکمت عملی اور پاکستان کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (2026 تا 2035) کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔

ورلڈ بینک کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیراعلی نے سندھ وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں بینک کے مسلسل تعاون کو سراہا اور بتایا کہ سندھ میں اس وقت ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری منصوبوں کی مجموعی مالیت 3.86 ارب ڈالر ہے جو مختلف شعبہ جات پر مشتمل ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک سندھ کے طویل مدتی ترقیاتی روڈ میپ سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔

اجلاس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلی سندھ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ ورلڈ بینک کے صدر نے نشان دہی کی کہ دنیا ایک بڑے آبادیاتی تغیر کے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ترقی پذیر ممالک میں آئندہ دہائی کے دوران 1.2 ارب نوجوان افرادی قوت کا حصہ بنیں گے جبکہ صرف 40 کروڑ ملازمتوں کی دستیابی کا امکان ہے۔

اس موقع پر پاکستان میں جہاں آئندہ 5 برسوں میں آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کرنے کی توقع ہے روزگار کی تخلیق کو معاشی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ دانش مندانہ عوامی سرمایہ کاری کی معاونت کے ساتھ نجی شعبے کی قیادت میں روزگار کی تخلیق، ترقیاتی پالیسی کا بنیادی ستون ہونی چاہیے۔وزیراعلی مراد علی شاہ نے سندھ میں خصوصا نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے چھوٹے اور نئے کاروباری اداروں پر توجہ دینے کا ذکر کیا۔

وزیراعلی نے کہا کہ صاف پینے کے پانی تک رسائی اور زچہ و بچہ صحت کی سہولیات سندھ میں بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ (اسٹنٹنگ) کو کم کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد رہائشی تعمیر نو منصوبے کی کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ نے دیہی علاقوں میں اسٹارز واش پروگرام شروع کیا ہے، جسے ورلڈ بینک کے 300 ملین ڈالر کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے 100 ملین ڈالر بھی اس میں شامل کیے گئے ہیں۔

وزیرِ اعلی نے کہا کہ پانی کی فراہمی، صفائی اور گندے پانی کے علاج کے منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر طویل مدتی سرمایہ کاری درکار ہے اور سندھ ان اقدامات کو پورے صوبے تک وسعت دینے کے لیے ورلڈ بینک کو اپنا قابل اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے۔اجلاس میں شہری آبی نظام، بشمول کراچی واٹر اور گندے پانی کو صاف کرنے کے منصوبے جیسے ٹی پی 4 کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا جن کے لیے دریائے سندھ کے طاس کے تناظر میں جامع منصوبہ بندی ضروری ہے۔

صحت کے شعبے میں وزیرِ اعلی مراد علی شاہ نے میں ممتا پروگرام اور 1000 دن سندھ مربوط صحت منصوبہ سمیت اہم پروگراموں کو پورے صوبے تک توسیع دینے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ممتا پروگرام پہلے ہی 15 سے بڑھ کر 22 اضلاع تک پھیل چکا ہے جبکہ 1000 دن منصوبے کے تحت 1600 کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی کی جا رہی ہے جسے حکومت تمام سرکاری صحت مراکز تک وسعت دینا چاہتی ہے۔

ورلڈ بینک کے صدر نے ابتدائی عمر میں غذائیت پر سندھ کی توجہ کو سراہا اور نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جس میں آٹ پیشنٹ تھیراپیوٹک پروگرام کے ذریعے بچوں کی زیادہ اسکریننگ شامل ہے۔زراعت اور زرعی کاروبار کو روزگار پیدا کرنے والے اہم شعبے قرار دیا گیا، چھوٹے کسانوں کو گزارہ زراعت سے منافع بخش پیداوار کی جانب منتقل کرنے میں معاون ورلڈ بینک کے ایگری کنیکٹ اقدام پر بھی بات چیت ہوئی اور سندھ کی جانب سے ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور دیہی آمدنی بڑھانے کی کوششوں پر بھی غور کیا گیا۔

مراد علی شاہ نے 5 سالہ سندھ ایس ایم ای ترقی اور روزگار تخلیق پروگرام کی تجویز بھی پیش کی جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانا، پیداواریت بڑھانا، کاروباروں کو باضابطہ بنانا اور خواتین کی معاشی شمولیت کو تیز کرنا ہے۔

دونوں فریقین نے سندھ سیلاب ہاسنگ تعمیر نو پروگرام کا جائزہ لیا جسے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے عالمی نمونے کے طور پر قرار دیا گیا، 2.1 ملین گھروں کی تعمیر نو، جن میں سے 1.5 ملین گھروں پر کام جاری ہے، مقامی سطح پر روزگار پیدا کر رہی ہے اور خواتین کو بااختیار بنا رہی ہے جبکہ 100,000 سے زائد خواتین کو پہلی مرتبہ زمین کی ملکیت دی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ میں ترقیاتی اقدامات کو الگ الگ منصوبوں کے بجائے ایک مربوط اور طویل مدتی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔

وزیر اعلی نے ورلڈ بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سندھ استحکام کو روزگار سے بھرپور، جامع اور ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔ ورلڈ بینک کے صدر نے توانائی، مہارتوں کی ترقی، صحت، زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور مضبوط بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سندھ کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پاکستان کا آبادیاتی چیلنج خطرے کے بجائے مواقع میں تبدیل ہو سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔