اسلام آباد (آئی پی ایس ) اسلامک ملٹری کائونٹر ٹیررازم کولیشن نے انتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ رویوں کے حامل افراد کی اصلاح اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے اسلام آباد میں بحالیِ نو کے اقدام ”ری انٹی گریشن انیشیٹو” کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، آئی ایم سی ٹی سی کے سیکرٹری جنرل میجر جنرل محمد بن سعید المغیدی سمیت عسکری، سیکورٹی، فکری اور سفارتی ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس پروگرام کاانعقاد 2 سے 6 فروری 2026 تک کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد انتہا پسندی کی بنیادی وجوہات کا تدارک اور احتیاطی و نظریاتی طریقوں کو بہتر بنانا ہے۔ اس تربیتی پروگرام میں آئی ایم سی ٹی سی کے رکن ممالک کے ان ماہرین کو شامل کیاگیا ہے جو بحالیِ نو اور سماجی شمولیت کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ آئی ایم سی ٹی سی کے سیکرٹری جنرل نے اپنے افتتاحی کلمات میں اس بات پر زور دیا کہ ”ری انٹی گریشن” اقدام اتحاد کے نظریاتی شعبے کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند نظریات کے خلاف بحالی کے پروگرام دفاع کی پہلی لائن کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کا مقابلہ صرف سیکورٹی یا فوجی اقدامات سے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ایک مربوط فکری اور سماجی نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو شعور کی تعمیرِ نو اور افراد کو دوبارہ معاشرے کا کارآمد حصہ بنانے میں معاون ثابت ہو۔ میجر جنرل المغیدی نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد دہشت گردی کے جرائم میں ملوث افراد کو فکری، نفسیاتی اور سماجی طور پر انتہا پسند گروپوں کے چنگل سے نکالنا اور انہیں دوبارہ اپنے خاندان اور معاشرے کا فعال رکن بنانا ہے۔
یہ پروگرام ان افراد کو دہشت گرد تنظیموں کے استحصال سے بچانے اور انہیں ملکی ترقی کے مختلف سماجی و انسانی شعبوں میں واپس لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے آئی ایم سی ٹی سی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان کی شراکت داری کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اس اقدام کی میزبانی بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اور انتہا پسندی کے خاتمے میں تجربات کے تبادلے کے عزم کی عکاس ہے۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ امن صرف دہشت گردوں کے خاتمے سے نہیں بلکہ زندگیوں کی تعمیرِ نو، اعتماد کی بحالی اور ریاست و معاشرے کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے سے حاصل ہوتا ہے۔
انہوں نے رکن ممالک کی عسکری، نظریاتی، انسداد دہشت گردی فنانسنگ اور مواصلاتی شعبوں میں صلاحیتیں بڑھانے پر آئی ایم سی ٹی سی کی قیادت کی تعریف کی۔ اس اقدام کے تحت ماہرین کے ذریعے خصوصی تربیتی سیشنز اور پینل ڈسکشنز کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں بحالی نو کے تصورات، ماڈل فریم ورک، سماجی دیکھ بھال کی علمی بنیادوں اور پروگراموں کے نفاذ میں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں اس پروگرام کا آغاز علاقائی اور عالمی سطح پر سماجی استحکام اور سیکیورٹی کو مستحکم کرنے کے لیے آئی ایم سی ٹی سی کے پختہ عزم کا اظہار ہے۔
