اسلام آباد(سب نیوز)
وزیراعظم یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن، ایم این اے سیدہ آمنہ بتول نے کہا ہے کہ کافی شاپس اور قہوہ خانوں میں بیٹھ کر پاکستان کے مستقبل سے متعلق مایوسی پھیلانے والا بیانیے کی حقیقت بہت کمزور ہے، اصل حقیقت وہ لیپ ٹاپ ہے جو نوجوان کے ہاتھ میں ‘مستقبل کی چابی’ بن کر اسے عالمی معیشت سے جوڑ رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام ، سیدہ آمنہ بتول نے قہوہ خانوں اور سوشل میڈیا پر جاری “سب ختم ہو گیا” کے نعروں کا موازنہ نوجوانوں کی عملی جدوجہد سے کرتے ہوئے کہا کہ “ڈوم اینڈ گلوم” کی کہانیاں وائرل تو ہو سکتی ہیں مگر ان میں دم نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں کچھ لوگ بیٹھ کر صرف باتیں کر رہے ہیں، وہاں پاکستان کے ‘ڈیجیٹل نیٹو’ نوجوان اپنے لیپ ٹاپس پر بیٹھ کر مصنوعی ذہانت اور ای کامرس کے ذریعے ملک کی نئی پہچان بنا رہے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت دیے جانے والے لیپ ٹاپس کو محض ایک الیکٹرانک مشین نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ ان نوجوانوں کے لیے ایک ‘گیٹ وے’ ہے جو وسائل کی کمی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کا دفتر ہے، آپ کی یونیورسٹی ہے اور آپ کا تخلیقی سٹوڈیو بھی۔ ریاست آپ کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہمیں آپ کے خوابوں پر یقین ہے اور ہم ان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
فوکل پرسن سیدہ آمنہ بتول نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قہوہ خانوں کی بحث میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اس کنیکٹیویٹی کو استعمال کریں تاکہ آپ لاہور یا کراچی میں بیٹھ کر سلیکون ویلی، لندن اور ٹوکیو کے ٹیلنٹ کا مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ فری لانسرز اور ڈویلپرز اس وقت پاکستان کے لیے زرمبادلہ کما رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت کرنے والوں کے لیے سرحدیں اب کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
سیدہ آمنہ بتول نے واضح کیا کہ لیپ ٹاپ کی فراہمی کسی سیاسی ہمدردی یا خیرات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مکمل طور پر میرٹ اور شفافیت کے ذریعے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی قیادت میں ہمارا مقصد نوجوانوں کو وسائل فراہم کرنا ہے، اب شاہکار تخلیق کرنا ان کا کام ہے۔
