Sunday, February 1, 2026

کم ظرف دشمن

تحریر: محمد محسن اقبال
تاریخِ انسانی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ ریاستوں کے درمیان دشمنی اور تصادم بھی ہمیشہ مکمل طور پر بے اصول نہیں رہا۔ قدیم جنگوں سے لے کر جدید ریاستی تنازعات تک، ایک غیر تحریری ضابطہ اخلاق موجود رہا ہے جس کے تحت دشمن کھلے عام میدان میں اترتا، اعلانِ جنگ کرتا اور اپنے اقدامات کے نتائج قبول کرتا تھا۔ ایسی دشمنی میں، خواہ وہ کتنی ہی خونریز کیوں نہ ہو، ایک طرح کی سنجیدگی اور وقار پایا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ ایسے دشمنوں کو بھی یاد رکھتی ہے جو مخالفت کے باوجود اصولوں کے پابند رہے۔ اس کے برعکس، بزدل دشمن وہ ہوتا ہے جو سامنے آنے کی ہمت نہیں رکھتا، جو جواب دہی سے فرار اختیار کرتا ہے اور جو براہِ راست جنگ کے بجائے سازش، فریب، پراکسیوں اور دہشت گردی کا سہارا لیتا ہے۔ بدقسمتی سے آج پاکستان کو اسی نوعیت کی پست اور خطرناک دشمنی کا سامنا ہے۔
مئی 2025 میں اپنی واضح عسکری اور سفارتی ناکامی کے بعد بھارت نے عملاً ذمہ دار ریاستی طرزِ عمل کو خیرباد کہہ دیا۔ ایک سنجیدہ ریاست شکست کے بعد خود احتسابی کرتی ہے، اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرتی ہے اور مستقبل کے لیے زیادہ محتاط راستہ اختیار کرتی ہے، مگر بھارت نے اس کے برعکس ردِعمل دیا۔ وہ اپنی ناکامی کو ہضم نہ کر سکا اور کھلے تصادم کے بجائے بالواسطہ جنگ کی طرف لوٹ گیا۔ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے، انتشار پھیلانے اور خوف کی فضا قائم کرنے کے لیے اس نے پراکسی عناصر کو متحرک کیا۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تشدد کی سرپرستی، دہشت گرد گروہوں کی مالی و عسکری معاونت اور مغربی سرحدوں کے ذریعے دراندازی کی سہولت ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ اقدامات طاقت کی علامت نہیں بلکہ اس ذہنی اور تزویراتی دیوالیہ پن کا اظہار ہیں جو ناکامی کے بعد اکثر جارح ریاستوں پر طاری ہو جاتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف محض الزام تراشی یا سیاسی بیان بازی پر مبنی نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے بارہا ناقابلِ تردید شواہد عالمی برادری کے سامنے رکھے ہیں۔ گرفتار دہشت گردوں کے اعترافی بیانات، ضبط شدہ اسلحہ، مالی روابط، مواصلاتی ریکارڈز اور انٹیلی جنس رپورٹس واضح طور پر بیرونی مداخلت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں رہا۔ یہ عناصر نہ تو خود رو ہیں اور نہ ہی کسی عوامی تحریک کی نمائندگی کرتے ہیں، بلکہ وہ ایک وسیع پراکسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں جسے بیرونی طاقتیں اپنے سیاسی اور تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
اگرچہ اس پورے منظرنامے میں بھارت مرکزی کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بعض دیگر بیرونی عناصر نے بھی اس کھیل میں براہِ راست یا بالواسطہ کردار ادا کیا۔ مئی 2025 کے واقعات کے دوران جن قوتوں نے بھارت کے ساتھ صف بندی کی اور اپنی تکنیکی برتری کا مظاہرہ کیا، وہ اس خطے میں عدم استحکام کی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتیں۔ تاہم اسی مرحلے پر ایک اور حقیقت پوری قوت سے سامنے آئی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا بلکہ ایک ذمہ دار اور بالغ ریاست کے طور پر تحمل، پیشہ ورانہ مہارت اور فیصلہ کن قوت کا مظاہرہ بھی کیا۔ دشمن کے منصوبے زمین بوس ہوئے، دفاعی توازن بحال ہوا اور پاکستان کی عسکری ساکھ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی۔
آج پاکستان کو درپیش اصل خطرہ روایتی جنگ نہیں بلکہ وہ بزدلانہ دہشت گردی ہے جو دانستہ طور پر فوجی اہداف سے گریز کرتی ہے اور عام شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔ مزدور، مسافر، تاجر اور نہتے شہری ان حملوں کا ہدف بنتے ہیں کیونکہ دہشت گرد جانتے ہیں کہ وہ کھلے میدان میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ حملے کسی نظریے، آزادی یا حقوق کی جدوجہد کی علامت نہیں بلکہ خوف، مایوسی اور ناکامی کا شاخسانہ ہیں۔ ان کا مقصد محض دہشت پھیلانا، ریاست کو ردِعمل پر مجبور کرنا اور اپنی غیر متعلقہ حیثیت کو وقتی طور پر نمایاں کرنا ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کا ردِعمل متوازن، مربوط اور پختہ رہا ہے۔ مسلح افواج، انٹیلی جنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمہ وقت مستعد ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور ریاستی رِٹ کو ہر قیمت پر قائم رکھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام نے جس صبر، حوصلے اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ شہداء کی قربانیاں اور غازیوں کا عزم اس بات کا واضح پیغام ہے کہ یہ قوم دباؤ، دھمکی یا دہشت کے آگے جھکنے والی نہیں۔
اس پراکسی جنگ کے مرکز میں نام نہاد بلوچستان لبریشن آرمی جیسے گروہ موجود ہیں، جو بلوچ حقوق کے نام پر درحقیقت بیرونی ایجنڈوں کی تکمیل کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ بلوچ عوام کی حقیقی محرومیوں اور جائز مطالبات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ بیرونی سرپرستوں کی ہدایات پر کام کرنے والا یہ گروہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک مسلح مجرمانہ نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بلوچستان کے وسیع اور دشوار گزار علاقوں میں ان کے جنگجو اب زیادہ تر گھات لگا کر حملے کرنے، بھتہ وصول کرنے اور نرم اہداف کو نشانہ بنانے تک محدود ہو چکے ہیں، جو ان کی تزویراتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
حالیہ سیکیورٹی آپریشنز نے ان گروہوں کی کمزوریوں کو کھل کر بے نقاب کر دیا ہے۔ ناقص منصوبہ بندی، اندرونی اختلافات، عوامی حمایت کی کمی اور ریاستی دباؤ نے ان کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کی قیادت تنہائی کا شکار ہے اور ان کے سہولت کار ایک ایک کر کے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ یہ کامیابیاں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور عزم کی عکاس ہیں، جو ہر قیمت پر ریاست کی عمل داری قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ان پراکسیوں کے سرپرستوں کے لیے پیغام نہایت واضح ہے۔ اس راہ پر مزید سرمایہ کاری محض وقت اور وسائل کا ضیاع ہے۔ پراکسی جنگ وقتی خلل تو پیدا کر سکتی ہے، مگر وہ زمینی حقائق، جغرافیہ، تاریخ اور قومی عزم کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ بلوچستان کا مستقبل تشدد، انتشار اور بیرونی سازشوں میں نہیں بلکہ امن، ترقی، سیاسی شمولیت اور ایک مضبوط، خود مختار پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
آخر میں یہ حقیقت ایک بار پھر واضح ہو جاتی ہے کہ بزدلانہ دشمنی کبھی اقوام کی تقدیر نہیں بدل سکی۔ تاریخ ان قوتوں کو یاد رکھتی ہے جو کھلے میدان میں مقابلہ کرتی ہیں، جبکہ سایوں میں وار کرنے والے بالآخر خود ہی مٹ جاتے ہیں۔ پاکستان ماضی میں بھی ایسے چیلنجز سے نبرد آزما ہو چکا ہے اور ہر بار پہلے سے زیادہ مضبوط بن کر ابھرا ہے۔ پسِ پشت سے کیے گئے حملے وقتی زخم تو دے سکتے ہیں، مگر نتائج کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ یہ اختیار ایک باخبر ریاست، ایک پیشہ ور فوج اور ایک باہمت قوم کے پاس ہے، جو اپنے وطن کے دفاع اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے متحد، پُرعزم اور ثابت قدم ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔