اسلام آباد(سب نیوز)
پاکستان میں تعینات مملکتِ تھائی لینڈ کے سفیر، عزت مآب رونگ وُدھی ویرا بُتر نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو آئندہ دو سے تین برسوں میں دگنا کرنے اور ایک مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تھائی سرمایہ کاروں کے لیے بالخصوص تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں بے شمار مواقع موجود ہیں۔
ایک انٹرویو میں تھائی سفیر نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 1.1 ارب امریکی ڈالر ہے اور ان کا ہدف ہے کہ اسے آئندہ دو سے تین برسوں میں بڑھا کر 2.2 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت میں اضافے کے لیے سب سے زیادہ صلاحیت نئے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور موجودہ رکاوٹوں کو ختم کرنے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ حلال تجارت میں بے پناہ امکانات دیکھتا ہے، جہاں تھائی لینڈ کی عالمی معیار کی حلال فوڈ انڈسٹری پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلب کو باآسانی پورا کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا،
“ہم پاکستان کی اعلیٰ معیار کی سمندری خوراک اور ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے بھی تھائی مارکیٹ میں بہتر رسائی کے مواقع دیکھ رہے ہیں۔”
ان کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ روایتی اشیاء سے آگے بڑھ کر ایک متنوع تجارتی پورٹ فولیو اپنایا جائے جو جدید مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تجارت میں تنوع پیدا کرنا تھائی لینڈ کے مستقبل کے وژن کا بنیادی ستون ہے۔
انہوں نے کہا،
“ہم اب صرف گاڑیوں اور سی فوڈ تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ نئے اور تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں کو اپنانا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے معاشی تعلقات کے لیے ایک نئی کہانی تخلیق کرنا چاہتے ہیں، جو جغرافیے کی قید سے آزاد اور مشترکہ معاشی اہداف پر مبنی ہو۔”
تھائی سفیر نے بتایا کہ تھائی لینڈ کی حکمتِ عملی میں خدمات کے شعبے، بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی میں مضبوط پیش رفت شامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ حلال فوڈ انڈسٹری، حلال سیاحت اور دفاعی صنعت میں تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ای-پلیٹ فارمز کے ذریعے ان کی مصنوعات کی فروخت کو فروغ دے رہا ہے، جس سے آمدن کے نئے اور اختراعی ذرائع پیدا ہوں گے اور جامع معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تھائی لینڈ، اقوامِ متحدہ کے ادارے UN Women Pakistan کے ساتھ مل کر خواتین کی زراعت اور گھریلو بیوٹی سیلون جیسے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ خواتین کو گھریلو سطح پر معاشی خودمختاری حاصل ہو سکے۔
انہوں نے کہا،
“یہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ہم ایک متحرک اور منصفانہ تجارتی تعلق قائم کرنے کے لیے روایتی سوچ سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں۔”
پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان ممکنہ نئے معاہدوں یا مشترکہ منصوبوں سے متعلق سوال کے جواب میں سفیر نے تصدیق کی کہ سب سے اہم اور انقلابی پیش رفت آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) ہے۔
انہوں نے کہا،
“یہ محض ایک تکنیکی دستاویز نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک فریم ورک ہے جو ہمارے کاروبار کرنے کے انداز کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے گا۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کے لیے ایف ٹی اے کا مطلب تھائی لینڈ سے خام مال کی کم لاگت پر درآمد، مقامی پیداوار میں بہتری اور مسابقت میں اضافہ ہوگا، جبکہ پاکستانی صارفین کو اعلیٰ معیار کی اشیاء کم قیمت پر دستیاب ہوں گی۔
ایف ٹی اے کے علاوہ، تھائی سفیر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان مکالمے کو مزید وسعت دینے کے لیے موجودہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کو وزرائے خارجہ کی قیادت میں ایک جامع مشترکہ کمیشن میں تبدیل کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے، جس سے تجارت کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر بات ممکن ہو سکے گی۔
دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں بہتری سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ رابطہ کاری کسی بھی معاشی شراکت داری کی شہ رگ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ فضائی اور بحری روابط موجود ہیں، لیکن انہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اشیاء، افراد اور خیالات کی تیز رفتار نقل و حرکت ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا،
“ہمیں کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہوگا اور سیاحت و کاروباری سفر کے فروغ کے لیے براہِ راست پروازوں کے امکانات تلاش کرنا ہوں گے۔ فضائی سروسز کی تعداد اور گنجائش میں اضافہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ لاجسٹکس اور شپنگ چینلز میں بہتری لا کر دونوں ممالک تجارت کی لاگت اور وقت کم کر سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کے لیے دونوں معیشتیں مزید پرکشش بنیں گی۔
انہوں نے کہا کہ آسیان کے ساتھ ممکنہ طور پر پیپر لیس کسٹمز کے پائلٹ منصوبوں سمیت تمام ممکنہ تعاون پر غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں تھائی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع سے متعلق سوال پر سفیر نے کہا کہ پاکستان کی بڑی اور نوجوان آبادی بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے زراعت، آئی ٹی، قابلِ تجدید توانائی اور معدنیات کے شعبوں کو خاص طور پر نمایاں کیا اور کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
دوسری جانب، انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے تھائی لینڈ ایک مینوفیکچرنگ اور جدت کا مرکز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، جبکہ آسیان کے مرکز میں تھائی لینڈ کا محلِ وقوع پاکستانی کمپنیوں کے لیے جنوب مشرقی ایشیا تک رسائی کا بہترین ذریعہ ہے۔
آزاد تجارتی معاہدوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ ایسے معاہدے مستقبل کے معاشی تعلقات کی بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا،
“ایف ٹی اے ہماری دوطرفہ معاشی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون ہے اور اس کی تکمیل ایک گیم چینجر ثابت ہوگی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ آسیان میں تھائی لینڈ کا کلیدی کردار اور جنوبی ایشیا میں پاکستان کا اسٹریٹجک مقام ایک مضبوط ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا،
“ہم ‘لُک ویسٹ’ پالیسی کو فروغ دے رہے ہیں جو پاکستان کی ‘ویژن ایسٹ ایشیا’ پالیسی کی تکمیل کرتی ہے۔ ہم صرف دو ممالک کو نہیں جوڑ رہے بلکہ دو متحرک خطوں کے درمیان ایک پل تعمیر کر رہے ہیں۔”
آخر میں تھائی سفیر نے کہا کہ اگرچہ ابھی بہت سا کام باقی ہے، مگر اسے چیلنج نہیں بلکہ ایک عظیم موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ تھائی لینڈ کا وژن چار بنیادی ستونوں پر قائم ہے:
تجارت و سرمایہ کاری، کاروباری تعاون، عوامی روابط، اور سفارتی و سیکیورٹی اشتراک۔
انہوں نے کہا،
“ہم ان تمام شعبوں میں تیزی اور سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ایف ٹی اے مذاکرات میں تیزی، بزنس کونسلز کے درمیان تعاون، اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا آغاز ہماری فوری ترجیحات میں شامل ہے۔ ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج پر توجہ دے کر ہم اپنی معاشی صلاحیت کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔”
