Sunday, February 1, 2026
ہومکالم وبلاگزمری و گلیات برف باری، حسنِ فطرت اور حکومتی امتحان۔۔۔.

مری و گلیات برف باری، حسنِ فطرت اور حکومتی امتحان۔۔۔.


تحریر غلام مصطفیٰ بھٹی ۔۔


مری اور گلیات میں برف باری کوئی نئی بات نہیں۔ ہر سال سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی یہ خطہ سفید چادر اوڑھ لیتا ہے اور ملک بھر سے سیاحوں کا رخ ان پہاڑی علاقوں کی طرف ہو جاتا ہے۔ برف سے ڈھکی سڑکیں، درختوں پر جمی سفید تہیں اور ٹھنڈی ہوائیں ایک دلکش منظر پیش کرتی ہیں، مگر یہی حسن جب حد سے بڑھ جائے تو آزمائش میں بدل جاتا ہے۔ رواں برس بھی مری، نتھیا گلی اور گرد و نواح میں شدید برف باری نے ایک بار پھر انتظامیہ اور حکومت کی تیاریوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔چند روزہ برف باری نے جہاں سیاحوں کو مسحور کیا، وہیں معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر بھی کیا۔

مرکزی شاہراہیں بند ہو گئیں، ٹریفک جام معمول بن گیا، بجلی اور گیس کی فراہمی معطل رہی اور ہزاروں سیاح سرد موسم میں گاڑیوں کے اندر محصور ہو کر رہ گئے۔ ایسے مناظر ماضی کی تلخ یادوں کو تازہ کرتے ہیں جب مری میں پھنسے سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان تجربات سے کوئی سبق سیکھا گیا؟
حکومتی اور ضلعی انتظامیہ نے حسبِ روایت برف باری کے بعد متحرک ہونے کا اعلان کیا۔ مری میں داخلے پر پابندیاں عائد کی گئیں، ہیوی مشینری کے ذریعے سڑکوں سے برف ہٹانے کا عمل شروع ہوا، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ادارے فیلڈ میں نظر آئے۔ بلاشبہ یہ اقدامات ضروری تھے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات بروقت تھے؟ اگر محکمہ موسمیات پہلے ہی شدید برف باری کی پیش گوئی کر چکا تھا تو پیشگی منصوبہ بندی کیوں نظر نہیں آئی؟
سیاحت ملکی معیشت کا اہم ستون بنتی جا رہی ہے اور مری و گلیات اس شعبے کا نمایاں مرکز ہیں۔ ایسے میں ہر سال برف باری کے دوران انتظامی بدنظمی نہ صرف عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ ملک کے سیاحتی تشخص کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ سیاح جب گھنٹوں برف میں پھنسے رہتے ہیں تو حسنِ فطرت کی جگہ شکایات اور تلخی لے کر واپس جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ برف باری کو ایک ہنگامی صورتحال نہیں بلکہ ایک متوقع حقیقت سمجھا جائے۔ موسم سرما سے قبل جامع منصوبہ بندی، برف ہٹانے والی مشینری کی دستیابی، ہنگامی مراکز، سیاحوں کے لیے واضح ایڈوائزری اور ٹریفک کنٹرول کا مؤثر نظام ناگزیر ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی سیاحوں کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے غیر ضروری سفر سے گریز کرنا ہوگا۔
مری اور گلیات کی برف باری اللہ کی نعمت اور قدرت کا حسین مظہر ہے، مگر یہ حسن اسی وقت لطف دیتا ہے جب اس کے ساتھ ذمہ داری اور منصوبہ بندی شامل ہو۔ بصورتِ دیگر، ہر سال یہی برف خوشیوں کے بجائے مشکلات، تنقید اور سوالات کی صورت میں سامنے آتی رہے گی۔ اب یہ حکومت اور انتظامیہ پر ہے کہ وہ اس حسن کو محفوظ تجربے میں بدلتی ہے یا اسے ایک مستقل انتظامی بحران بننے دیتی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔