واشنگٹن (شاہ خالد خان) ایک وفاقی عدالت کی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جاری کردہ حکم کے چند بڑے حصوں پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ یہ حکم ووٹ ڈالنے کے لیے نام لکھوانے اور پوسٹ سے ووٹ بھیجنے میں امریکی شہریت کا ثبوت لازمی کرنے کے بارے میں تھا۔
جج نے فیصلہ دیا کہ یہ حکم آئین کے خلاف ہے کیونکہ ووٹنگ کے قواعد ریاستوں اور کانگریس بناتی ہیں، صدر اکیلے یہ قواعد نہیں بدل سکتا۔
اس حکم میں تین بڑی باتیں تھیں جو اب نافذ نہیں ہوں گی:
- وفاقی فارم پر شہریت کا کاغذ دکھانا لازمی کرنا۔
- غریبوں کو ملنے والی مدد لینے والوں کی شہریت چیک کرکے ہی فارم دینا۔
- فوج میں کام کرنے والوں اور باہر ملک رہنے والے امریکیوں سے بھی شہریت کا ثبوت مانگنا۔
یہ فیصلہ کئی مقدموں کے بعد آیا جن میں ڈیموکریٹک پارٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کئی ریاستیں شامل تھیں۔
ٹرمپ کی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ حکم انتخابات کو محفوظ رکھنے کے لیے ہے، مگر مخالفین کہتے ہیں کہ اس سے بہت سے لوگوں کو ووٹ ڈالنے میں دشواری ہوتی۔
اب حکومت ان حصوں کو نافذ نہیں کر سکتی۔
