اسلام آباد: بھارت اور یورپی یونین کے درمیان وسیع تجارتی معاہدے پر صدر ایف پی سی سی آئی، عاطف اکرام شیخ نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عاطف شیخ نے کہا کہ یہ معاہدہ خاص طور پر پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے اور پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں میں شدید مقابلے کا سامنا ہوگا۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہا کہ بھارت اور یورپین یونین کے اس معاہدے سے پاکستان کے لیے موجودہ جی ایس پلس سٹیٹس کا اثر کمزور ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی برآمدات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر قبل از وقت اقدامات کرے تاکہ برآمدات کو بچایا جا سکے۔
عاطف شیخ نے زور دیا کہ پاکستان کو بھی یورپی ممالک کے ساتھ اسی طرز کے وسیع پیمانے پر مذاکرات فوری طور پر شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کو وسعت دینے، موجودہ حجم کو برقرار رکھنے اور نئی منڈیوں کی تلاش کے لیے موثر بات چیت ضروری ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ڈسٹرکٹ اکانومی کے منصوبے سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمداتی شعبے میں تنوع لائے تاکہ پاکستان کی برآمداتی معیشت مستحکم اور مضبوط ہو۔
