Wednesday, January 28, 2026
ہومتازہ ترینایشیائی اقدار: ایشیائی ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کے لیے ایک قیمتی روحانی اثاثہ

ایشیائی اقدار: ایشیائی ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کے لیے ایک قیمتی روحانی اثاثہ

بیجنگ :چین نے چند ہی دہائیوں میں وہ صنعتی سفر طے کر لیا ہے جو ترقی یافتہ ممالک نے صدیوں میں مکمل کیا۔ انتہائی غربت اور پسماندگی سے نکل کر چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا اور تیز رفتار اقتصادی ترقی اور طویل المدتی سماجی استحکام کا وہ “چینی معجزہ” تخلیق کیا جو دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔آج، جب مغربی ماڈل بار بار مشکلات سے دوچار ہے، ایشیائی اقوام” تنوع میں ہم آہنگی” کی دانشمندی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی اور اقتصادی بحران جیسے عالمی چیلنجز کا حل تلاش کر رہی ہیں۔

اس کے پس منظر میں ایک قیمتی “روحانی سرمایہ” کارفرما ہے — ایشیائی اقدار۔اپریل 2025 میں، چین کے اعلیٰ ترین رہنما شی جن پھنگ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کی جانب سے ہمسایہ ممالک سے متعلق امور کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ امن، تعاون، کھلے پن اور جامعیت پر مبنی ایشیائی اقدار، چین اور اس کے ہمسایہ ممالک کے تعلقات کی رہنمائی کا اہم اصول ہیں۔ ایشیائی اقدار اس بات پر زور دیتی ہیں کہ امن ترقی کی بنیاد ہے، تعاون باہمی فائدے اور جیت کے نتائج کا واحد راستہ ہے، کشادگی جدت اور خوشحالی کی تحریک دیتی ہے، اور جامعیت تہذیبوں کے تنوع کا احترام سکھاتی ہے۔ یہ مغربی محاذ آرائی، مسابقت اور زیرو سم گیم کی ذہنیت کے بالکل برعکس ہے۔

ایشیائی اقدار بیرونی تسلط پر انحصار کرنے کے بجائے اندرونی تعاون کے ذریعے ترقی پر زور دیتی ہیں۔یہ نظریاتی خطوط پر مبنی تصادم کی منطق کے بجائے “باہمی فائدے اور جیت کے نتائج” پر مرکوز ہیں۔ ایشیائی اقدار علاقائی ترقی کی بنیاد مشترکہ سلامتی پر رکھتی ہیں، نہ کہ اپنی سلامتی کے نام پر دیگر ممالک میں فوجی مداخلت پر۔ شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کی گئی ایشیائی اقدار چینی تہذیب کی روایات میں گہری جڑیں رکھتی ہیں اور ایشیائی ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کے لیے ایک قیمتی روحانی اثاثہ ہیں۔ یہ یقین کرنے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں کہ جیسے جیسے مزید ممالک امن، تعاون، کھے پن اور جامعیت پر مبنی ایشیائی اقدار کی رہنمائی میں ایک دوسرے کے قریب آئیں گے، ایشیاء نہ صرف اپنی پرامن ترقی کو یقینی بنائے گا بلکہ انسانیت کو بھی ایک زیادہ روشن اور بہتر مستقبل کی جانب لے جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔