اسلام آباد(سب نیوز )وزیراعظم محمد شہباز شریف سے مصنوعی ذہانت کے سرکردہ ماہرین کے ایک اعلی سطحی وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں عالمی اداروں اور تنظیموں بشمول بلیک راک، یونیورسٹی آف کیمبرج، یونیورسٹی آف آکسفورڈ، ڈیلویٹ، اور دنیا کی معروف AI اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سینئر رہنما شامل تھے۔ملاقات میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب بھی موجود تھے۔
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت قومی و اقتصادی ترقی کے لیے نئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل اور اقتصادی تبدیلی کو تیز تر کرنے کے لیے عالمی مہارت بالخصوص بیرون ملک پاکستانیوں کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو قومی ترجیحات، ادارہ جاتی صلاحیتوں اور جامع ترقی کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے حوالے سے نجی شعبے سے اشتراک پر بھرپور کام کر رہی ہیں۔
وفد کے اراکین نے پاکستان کے اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال پر گفتگو کی۔اس موقع پر وزیر مملکت بلال بن ثاقب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پاکستان کے لیے اب کوئی مستقبل کا تصور نہیں ہے بلکہ یہ حال کا سنہری موقع ہے اور حکومت اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی یے۔
وزیراعظم سے وفد کی ملاقات ڈیجیٹل تبدیلی، جدت طرازی کی ترقی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی عوامی پالیسی کے طویل المدتی وژن اور بین الاقوامی سوچ رکھنے والے ادارہ جاتی شراکت داروں کو شامل کرنے کے لیے پاکستان کی وسیع حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔
