اسلام آباد (سب نیوز ) کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فائر سیفٹی ہیزرڈ کنٹرول کے حوالے سے سروے مکمل کرلیا۔ اس ضمن میں کل 6500 عمارات کو سروے کیا گیا۔ سروے کے دوران یہ بات مشاہدے میں آئی ہے زیادہ تر عمارات کے فائر سیفٹی پلان کی منظوری نہیں لی گئی اور ان عمارات کی فائر سیفٹی کے تکمیلی سرٹیفیکیٹس بھی جاری نہیں ہوئے۔ سروے کے دوران 300 سرکاری عمارات کا بھی معائنہ کیا گیا۔
یہ تفصیلات چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران بتائی گئیں۔ اجلاس میں سی ڈی اے بورڈ کے ممبر ایڈمن طلعت محمود، ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن، ڈائریکٹر جنرل بلڈنگ و ہاسنگ کنٹرول، ڈائریکٹر جنرل اسلام آباد کیپیٹل ایمرجنسی سروسز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
واضح رہے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نوٹس لیتے ہوئے سی ڈی اے کو ہدایت کی تھی کہ اسلام آباد کی تمام عمارات کا فائر سیفٹی اینڈ ہیزرڈ کنٹرول کے حوالے سے جلد از جلد سروے کیا جائے۔ وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے کیپیٹل ایمرجنسی سروسز اور بلڈنگ اینڈ ہاسنگ کنٹرول ونگ سمیت تمام متعلقہ شعبوں کو جلد از جلد سروے کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عمارات کے مالکان و قابضین کو ہدایت کی جائے کہ وہ فائر سیفٹی اینڈ ہیزڈ کنڑول کے حوالے سے سرٹیفیکیٹس پندرہ دن کے اندر سی ڈی اے کے بلڈنگ اینڈ ہاسنگ کنٹرول ونگ کے متعلقہ دفاتر میں جمع کروائیں۔ بصورت دیگر ہدایات کی تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف سی ڈی اے آرڈیننس اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کے تحت قانونی کارروائی کا اختیار استعمال کیا جائیگا، جسکے تحت جرمانے اور دیگر انفورسمنٹ اقدامات اٹھائیجائیں گے۔
اس ضمن میں ضروری سرٹیفیکیٹس جمع نہ کرانے کی صورت میں اگر عمارت میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اسکی ذمہ داری متعلقہ مالکان اور عمارت کی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ عمارتوں کے مالکان اور ان کی انتظامیہ سے مزید درخواست کی گء ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی عمارتوں کی حفاظتی حیثیت کو یقینی بناتے ہوئے ضروری دستاویزات وقت پر جمع کرائیں تاکہ دارالحکومت میں عوامی حفاظت کے معیارات کو برقرار رکھا جاسکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام عمارتوں کے مالکان و قابضین سالانہ بنیادوں پر اپنی عمارتوں کی انسپکشن کروائیں گے اور آگ سے بچا کے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے کوڈز کے مطابق سرٹیفکیٹس سی ڈی اے میں جمع کروائیں ۔ مزید برآں، تمام عمارتوں میں باقاعدہ فائر سے بچاو کے حوالے سے مشقوں کا اہتمام بھی کرائیں۔ چیئرمین سی ڈی اے نے ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ بھی فائز سیفٹی کے اقدامات کے حوالے سے تمام ضوابط کا سختی سے اطلاق کو یقینی بنائیں۔
واضح رہے ان اقدامات کا بنیادی مقصد نہ صرف آگ لگنے کی صورت میں اسکے پھیلا کو روکنا ہے بلکہ عمارتوں سے محفوظ انخلا کے راستوں اور نظاموں کو فعال بنانا بھی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں اضافہ ہوگا بلکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ایک محفوظ اور جدید دارالحکومت بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
