Monday, January 26, 2026
ہومبریکنگ نیوزبورڈ آف پیس میں شمولیت اسلامی ممالک کا مشترکہ فیصلہ, حماس کیخلاف استعمال نہیں ہوں گے،عسکری ذرائع

بورڈ آف پیس میں شمولیت اسلامی ممالک کا مشترکہ فیصلہ, حماس کیخلاف استعمال نہیں ہوں گے،عسکری ذرائع

اسلام آباد (آئی پی ایس )سیکیورٹی ذرائع نے امریکی صدر کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے 8 بڑے ممالک کے ساتھ مل کر بورڈ میں شرکت کا فیصلہ کیا، پاک فوج حماس کو غیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ عسکری ذرائع نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شرکت کا فیصلہ 8 بڑے اسلامی ممالک سے مشاورت اور بہت سوچ سمجھ کر کیا۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے صرف امریکا ہی روک سکتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ غزہ امن بورڈ کے تحت پاکستان کی فوج حماس کوغیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی مسلمان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔عسکری ذرائع نے کہا کہ جہاں چین ہو وہاں ہمیں فکر نہیں ہوتی اور جہاں ہم ہوں وہاں چین کو فکر نہیں ہوتی، ہماری دوستی ہے، برطانیہ، یورپ سب امریکا کے اتحادی ہیں، انہوں نے اپنے فیصلے خودکرنے ہیں۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ معرکہ حق میں تمام فیصلے وزیراعظم نے کیے بس فوج نے اپنی ان پٹ دی، سات مئی کو بھارتی ڈی جی ملٹری آپریشنز کا میسج آیا ہم نے جو جواب دیا اس سے انہیں آگ لگ گئی تھی، پاکستانی فوج کا اپنا ایک فیصلہ ہے کہ ہم نے کیسے جواب دینا ہے اور ہم نے دیا۔عسکری ذرائع نے کہا ہک ملک سے دہشت گردی تب ختم ہوگی جب نیت ٹھیک ہو گی، نیشنل ایکشن پلان کا پہلا نکتہ فوجی آپریشن ہے جو کر رہے ہیں، بلوچستان میں سب سے زیادہ آپریشنز ہورہے ہیں۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس بہتر نہیں چل رہی، وہاں 3300 ملازمین ہیں جو پورا نہیں اتر پارہے۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ طالبان کو بتایا ہے کہ ہم معافی نہیں دیں گے، ہمیں انہیں ٹھیک کرنا ہے۔اس کے علاوہ عسکری ذرائع نے کہا کہ آزادکشمیر میں کلیئر کر لیں، کشمیر بنے گا پاکستان، پاکستانی فوج اور عوام میں دراڑ ڈالنے والے کے ذہنی مریض ہونے کے موقف پر قائم ہیں جبکہ ہم کسی جماعت کے حامی یا مخالف نہیں مگر جو پاکستان کے خلاف سوچے گا وہ نہیں چل سکتا۔عسکری ذرائع نے کہا کہ پاکستان سے اوپر کسی کی ذات یا سیاست نہیں ہو سکتی اور یہ بات طے ہوچکی ہے۔ایک سوال کے جواب میں عسکری ذرائع نے کہا کہ یواے اے اور انڈیا کے معاہدے سے کوئی مسئلہ نہیں، یو اے ای ہمارا بہت اچھا دوست ہے، ہمیں اس پر کوئی شک نہیں،

ہمارے بنگلہ دیش کے ساتھ پہلے کیسے تعلقات تھے اور اب کیسے ہیں دنیا دیکھ رہی ہے، ہمارا دوست جہاں بیٹھا ہوگا وہاں کوئی غلط بات کرے گا تو ہمارا دوست بتائے گا ٹھیک کیا ہے۔عسکری ذرائع نے کہا کہ خیبرپختونخو ا کی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں اس وقت دو ہزار نوسو اڑسٹھ کیس زیر التوا ہیں، تین سال سے زیادہ عرصہ سے ٹوٹل چھ سو ستاتر اور صرف خیبرپختونخوا میں چھ سو اکیس کیسز التوا میں ہیں، کے پی کے پولیس بہت بہادر ہے مگر اسے فری ہینڈ ملے تو وہ کام کر سکتی ہے۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ کے پی کے میں آپریشن نہ کریں توکیا اسے نورولی محسود کے حوالے کر دیں؟ کے پی کے میں وزیراعلی اورکورکمانڈر مل کر کام کر رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔